نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 258
سملاس نمبر ۶فقرہ ۲۳۵میں شہر پناہ کے بارہ میں بھی حکم ہے کہ شہر کے چاروں طرف شہر پناہ رکھنا چاہیے۔اسی قاعدہ کے موافق اس بادشاہ نے آرمینیہ اور آذربائجان کے درمیان جیسا بیضاوی وغیرہ مفسروں نے لکھاہے دیوار بنائی بلکہ اور اور دیواریں بھی ان بادشاہان میدوفارس نے بنائیں اور ایسی دیوار کیونکر تعجب اورانکار کا موجب ہو سکتی ہے جب کہ تمہارا منہ سیاہ کرنے کو سینکڑوں کوس کی لمبی دیوار چین میں اب بھی موجود ہے بلکہ ہم نے ایک دیوار کانٹے دار جھاڑیوںکی سینکڑوں کوس تک ہندوستان میں صرف سانبہر کی حفاظت کے لئے دیکھی ہے۔اب بتاؤ ایسی صاف اور واقعی بات کیا اعتراض کا محل ہوسکتی ہے۔سوال نمبر ۸۱۔آسمان بغیر ستونوں کے ہیں۔یہ (لقمان :۱۱) پر اعتراض کیا ہے اور کلمہ طیبہ (الجن :۱۰) پراعتراض کیا ہے جیسے کہا ہے چوکی پہروں سے آراستہ پیدا کئے گئے ہیں۔جب شیطان چپ چاپ بات سننا چاہے تو ان کو ستارے توڑ کر مارتے ہیں۔یہ آیات ہیں جن پر اعتراض کیا ہے ان آیات کو ہم آگے لکھیں گے۔الجواب۔آیت سوال نمبر1کا تویہ منشاء ہے کہ تمام بلندیاں کسی ایسے سہارے سے قائم نہیں جن کوتم دیکھ سکو۔قرآن کریم میں ہے۔(لقمان :۱۱) ترجمہ۔پیدا کیا اس نے تمام آسمانوں کو بغیر کسی ایسے ستونوں کے کہ جو تم دیکھو ان کو۔پس یہ کیسی صاف صداقت ہے جس کے خلاف کوئی عقل مند چون و چرا نہیں کر سکتا۔نادان انسان !کیا تونے ان کرّوں کے باہر کسی ستون کو دیکھا ہے جو اعتراض کرتاہے۔تمہارے مذہب میں ایشور کو محیط کل مانا ہے جب وہ ان آسمانوں کو محیط ہوا تو کیا وہ ستون تم دیکھ سکتے ہو؟نہیں ہرگز نہیں۔سنو !اس کا نام آتما ہے جس کے معنی محیط کے ہیں پس اس صداقت پر کیا اعتراض ہے پھر اس کانام پرش ہے جس کے معنی محیط کے ہیں دیکھو ستیارتھ پرکاش صفحہ ۱۲،۲۴۔دوسرے اور تیسرے نمبر کے جواب دینے