نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 233
اور پھر بڑا قابل غور لفظ توفی ہے یہ بھی ایسا صاف اور واضح ہے کہ عام بول چال میں ہر ایک شخص جانتا ہے کہ متوفی مردہ کو کہتے ہیں۔پھر اس کے حل کے لئے بڑا عجیب موقع وہ ہے جہاں حضرت یوسف کے باپ نے بیٹوں سے کہا: (البقرۃ:۱۳۳) کہ تم نہ مرو مگر مسلمان ہونے کی حالت میں۔اس ارشاد کی تعمیل میں اس شخص نے جو اس کے بیٹوں میں سب سے افضل واکرم اور احب تھا جب اپنی کامیابی کے لئے دعا کی تو انہی لفظوں میں کی (یوسف :۱۰۲) اے خدا! مجھے مسلم ہونے کی حالت میں وفات دے۔اس بین دلیل اور صداقت کے بعد اور کیا دلیل چاہتے ہو۔ان کی جنس کا کون مارا گیا تھا وہ دوست تھا یا دشمن اگر وہ دشمن تھا تو چپ کیوں رہا اور کیوں شور اور پکار نہ کی اور دوست بے قصور کیوں پکڑا گیا؟؟ احمق انسان ! اگر مسیح اڑ گیا تھا تو کہتا لو میں اڑا جاتا ہوںمجھے پکڑو۔بدلہ میں دوسرے کو پھانسی کیا معنی اور پھر اڑتا کسی کو نظر نہ آیا؟ اور تمہارا کہنا کہ چالیس پچاس کوس اوپر سانس کیونکر۔جب اصل ہی غلط ہے تو فرع کا کیا ذکر مگر بتائیے تم کو اوپر کے پچاس کو س حالت کا کیونکر پتہ لگا اور یہ بھی بتا دیجئے کہ جس بیان میں رام چندر جی لنکا سے اجودہیا تک آئے اس میں کس طرح سانس لیتے تھے؟ سوال نمبر۷۰۔ایک شخص کو قیامت کا یقین دلانے کے لئے مار دیا ،سوسال بعد زندہ کیا۔گدھے کی ہڈیا ں بوسیدہ ہیں پھر گدھا زندہ اور اس کا کھانا بھی سو سال تک نہ سڑا۔خواب ہو گا ؟ الجواب:تم نے پہلا جھوٹ اس سوال میں یہ بولا ہے کہ قیامت کا یقین دلانے کو ایسا کیا گیاحالانکہ یہ بات قرآن مجید میںنہیں۔دوسرا جھوٹ تم نے بولا گدھے کی ہڈیاں بوسیدہ ہیں۔تیسرا جھوٹ تمھارا یہ ہے پھر گدھا زندہ کیا گیا۔اڑھائی تین سطر میں تین جھوٹ۔یہ ہوا تمہارا ست کا لینا اور است کا ترک کرنا!!میں نے جو جھوٹ ثابت کئے ہیں اگر شریف ہو تو ایک کو قرآن واحادیث صحیحہ سے یا عقل سے ثابت کر کے دکھاؤ۔اگر عام کتب سے دکھاؤ تو ہم وید کی تفا سیر سے وہ کچھ