نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 232 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 232

(آل عمران:۵۶) میں تجھے وفات دینے والا اور اپنی طرف اٹھانے والا اور کافروں سے پاک کرنے والا اور تیرے پیرؤوں کو تیرے منکروں پر قیامت تک غالب کرنے والا ہوں۔غور کرو یہ کیسی عظیم الشان اور صادق پیشگوئی ہے کہ مسیح کے اتباع ہمیشہ مسیح کے منکروں پر غالب اور فوق رہیں گے اس کی تصدیق کے لئے دیکھ لو کہ ایک طرف مسلمان یہود کے ا صلی مرکز سنٹر بیت المقدس پر قابض ہیں یہود اصلی منکر اور مسلمان اصلی پیروان مسیح ہیں۔دوسری طرف آریہ ورتی عارضی منکروں پر عارضی اتباع نصاریٰ حکمران ہیں اور یوںہی ہمیشہ رہے گا۔ممکن ہے کہ جملہ رافعک الی کو نہ سمجھ کر تم ضلالت کے گڑھے میں گرے ہو سو یاد رکھو اس کی تصریح بل رفعہ اللّٰہ نے کر دی ہے۔جو قرآن کریم کی دوسری جگہ میں ہے۔اس کے معنی ہیں اللہ نے اسے رفعت اور بلندی بخشی یعنی جسے خد ا بلند اور رفع کرنا چاہے اور کر دے کوئی دشمن اسے گرا نہیں سکتا۔چنانچہ خدا نے یہود کے گندے اور ذلیل منصوبوں سے اسے بچایا اور رفعت دی۔یہی وحی خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود ومہدی مسعود علیہ السلام کو بھی ایک عرصہ سے ہو چکی ہے اور براہین احمدیہ میں موجود ہے اور وہ یہ ہے۔ اس نمونہ سے جو ہمارے زمانہ کے راست باز سے ظاہر ہے خدا کی واقعی وحی کا پتہ لگ سکتا ہے اس لئے کہ جو وعدہ تطہیر اور رفع اور توفی اور فوق کا حضرت مسیح کو دیا گیا تھا وہی ہمارے آقا حضرت مسیح موعود کو دیا گیاہے آپ کے حالات و واقعات بڑی بھاری چابی ہیں گزشتہ حالات کے قفلوں کے لئے۔اور پھر بڑا قابل غور لفظ توفی ہے یہ بھی ایسا صاف اور واضح ہے کہ عام بول چال میں ہر ایک