نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 234
عجائبات تم کو ثا بت کر کے د کھا ئیں گے جو کم سے کم غیرت مند کیلئے شر م کا موجب ہوں۔او زہر یلے سا نپو! تم کو کیوں اور کس وجہ سے یقین ہوا کہ تم ان بہا نوں سے آنے والے غضب الٰہی سے بچ جاؤ گے؟ اللہ تعالیٰ کے راستبازوں سے اور راستبازی سے عداوت کرنا اور ابطال حق کے لیے یہ شوخی اور حیلہ بازی اللہ تعالیٰ جانے تمہیں کہا ں پہنچا ئے گی ؟مانا کہ کسی باعث گورنمنٹ تم کو اعلیٰ عہدہ نہ دیتی مگر ان شرار توں سے تم کو حقیقی کا میا بی کا کیوں یقین ہوا؟ ہم تمہار ے آریہ سماج میں جانے سے نا راض نہیں کیونکہ ہمارے لیے تمہا را ا رتداد بھی خوشی کا با عث ہے کیو نکہ قرآن کریم میں ایسے ارتداد اور مر تدوں کے بد لہ ہم کو وعدہ دیا گیا ہے۔ــ (المائدۃ : ۵۵) سنو! قصہ تو بہت ہی صا ف تھا جس پر ا عتراض ہے۔۱۔ایک شخص کی نسبت قرآن مجید میں ہے کہ اس کو اللہ تعا لیٰ نے سو برس ما ر دیا اللہ تعا لیٰ سچا اور اس کا کہنا سچ ہے۔(النساء :۱۲۳) ۲۔وہ شخص کہتا ہے کہ میں ٹھہرا ایک دن یا اس کا کچھ حصہ ممکن تھا کہ اس شخص کا کہا بمقا بلہ فرمان الٰہی غلط مانا جاتا مگر حضرت حق نے اس کے قول کی بھی تصدیق کر دی جبکہ فر ما یا کہ تیرے کھانے اور پینے پر برس نہیں گزرے اور نہ سڑا نہ بُسا اور گد ھے کو دیکھ مو جو د ہے اور ظا ہر ہے کہ سو برس کھانے پینے اور گدھے پر تو نہیں گزرا والّا وہ رہتے ہی نہ۔پس یہ دونوں با تیں سچ ہو ئیں۔۳۔سو برس گزرا اور یوم اور بعض یوم بھی سو ایسا وا قعہ عا لم رؤیا میں ممکن ہے نہ اس کے سوااور اس کی نظیر قرآن کر یم میں مو جو د ہے سورہ یو سف میں ہے کہ ایک با دشا ہ نے سات برس کا قحط اور سات برس کا سما اسی ایک یوم اور بعض یوم میں دیکھا اور اکثر لوگ طول مدت کو رؤیا میں چھوٹے سے وقت میں دیکھتے ہیں۔۴۔ہڈ یوں پر گو شت کا چڑ ھنا اوّل تو عام نظا رہ قدرت ہے جس کا ذکر قرآن