نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 220
دوم:(طٰہٰ :۹۶،۹۷) پہلی آیت شریفہ کا مطلب اتنا ہے کہ موسیٰ کی قوم نے موسیٰ کے بعد موسٰی علیہ السلام کی غیر حاضری میں اپنے زیور سے ایک بچھڑا بنایا جو صرف جسم تھا اس میں روح نہ تھی ہا ں اسکی آواز تھی اور ایک جگہ قرآن کریم میں لکھا ہے اور اس مہمل آواز کی حالت بتائی ہے۔۱؎ (طٰہٰ :۹۰) اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ محض بے جان چیز تھی اس میں نفع رسانی یا ایذاء دینے کی کوئی طاقت نہ تھی۔دوسری آیت شریفہ کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے سامری کو فرمایا : اے سامری ! تیری یہ بڑی بھاری کارروائی کیوں ہوئی ؟بولا کہ میں بصیرت حاصل کر چکا ہوں۔ساتھ ایسے کام کے کہ اس کام کے ساتھ ان لوگوں کو بصیرت نہیں پھر قبض کر لیا تھا میں نے ایک قبضہ اس رسول کے اثر میں سے پھر پھینک دیا اسے اور اسی طرح یہ کام میری جان نے مجھے بہلا کر دکھایا۔اس مقام پر تسویل کا لفظ قابل غور و تامل ہے۔التسویل تزئین النفس لما یحرص علیہ و تصویر القبح منہ بصورۃ الحسن قال اللّٰہ تعالٰی بل سولّت لکم انفسکم امرا۔تسویل کے معنی ہیں نفس کا اپنی پسندیدہ چیز کو خوبصورت کر دکھانا چنانچہ اس کی گواہی قرآن شریف کی اس آیت سے ملتی ہے جو حضرت یعقوب ؑ نے اپنے بیٹوں سے بات کی بلکہ تمہارے نفسوں نے بری بات کو خوبصورت کر دکھایا۔پس اس آیت کا مطلب صرف اسی قدر ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اس بت پرستی کے بانی سامری سے