نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 219
کہو یا نہ کہوبت پرستوں کے افعال میںاور تمہارے اعمال میں اس لحاظ اور خصوص میں ذرابھی فرق نہیں آ یا۔عملی طوروہی رویہ ہے جو تھا ہاں اب ظلم زیادہ کرتے ہو۔سوال نمبر۶۲:۔ٹڈی۔مینڈک۔چیچڑی وغیرہ کا عذاب نازل کیا۔الجواب:۔ایسے عذاب ہمیشہ نازل ہواکرتے ہیں ہماری عمرمیں بارہاٹڈی دَل آیا اور کھیت والوں کے لیے عذاب کاباعث ہوا۔جب کثرت سے بارشیں ہوتی ہیں اور نشیب زمین نمناک ہوجاتی ہیں وہاں مینڈک علی العموم پیداہوجاتے ہیں اسی طرح جب عفونت زیادہ ہوجاتی ہے وہاں قسم قسم کے ہوام۔حشرات الارض چیچڑیاں بہت پیداہوجاتی ہیں او یہ سب عذاب ہیں کیونکہ دکھ دائک امور ہیں ان صریح نظاروں کا انکار کرنا کیا عقل مندی ہے۔سوال نمبر۶۳۔بچھڑے کی پرستش سامری نے کرائی۔جبرائیل کے گھوڑے کے سم کی مٹی سے ایک بچھڑابنایا۔۲۔دھات سے بناہوا بچھڑاکس طرح بولا۔بالکل گپ ہے۔الجواب۔جبرائیل کے گھوڑے کا ذکر تمام قرآن کریم اور احادیث صحیحہ نبی رئوف رحیم ﷺ میں ہرگز ہرگز نہیں۔دھات سے بنے ہوئے کھلونے ہر روز یورپ سے آتے ہیں کیا وہ نہیں بولتے۔ہم نے چہچہاتی چڑیاں اوراور مصنوعی جانور ایسے دیکھے ہیں کہ بعض عامی ان کو اصلی یقین کرتے ہیں تمہارے سرسوتی نے ستیارتھ کے ۴۲۵،۴۲۶ صفحہ میں لکھا ہے کالیا کنت کا بت سیوکون کو حقہ پلاتا ہے اور شعر بھی لکھا ہے رنگ سے کالیا کنت کو جس نے حقہ پلایا سنت کو جگن ناتھ ، جوالا مکھی ،ہنگ لاج کے عجائبات اور امر ناتھ کے کبوتروں کے بارے میں جو لکھا ہے اگر تم پڑھتے تو سامری کے کرشمہ پر تعجب نہ کرتے۔اب ہم آپ کو ان آیات کا پتہ دیتے ہیں جن میں بچھڑے کا ذکر ہے۔اوّل:۔ (الاعراف:۱۴۹)