نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 177 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 177

تھا اور قربانیاں رضا ئے الٰہی۔کفارہ معاصی۔ازالہ غضب اصنام کے لئے۔غریب کی غربت۔شاعر کی قوت بڑھانے۔بیمار کی شفا کے واسطے قربانی ہوا کرتی تھیں۔ایرانیوںمیں شکریہ۔کفارہ اور حمد الٰہی کے لئے لڑکے کے تولد۔ختنہ۔شادی پر اور مہمان کے آنے پر۔فتح مندی۔زمین کے جوتنے۔کنوئیں کی بنا۔بنیاد عمارت۔باہمی معاہدہ۔مردہ کی سالانہ رسم، شکار کے بعد اور جب کسی کا جانور پہلا بچہ دے تو قربانی ہوا کرتی تھی۔بابلی لوگ قیدیوں میں ایک انسان کی قربانی اور افریقہ میں حسین آدمی کی قربانی ہوتی تھی۔بابلیوں میں ہرن کی قربانی اور عبرانیوں میں بادشاہ اور رعایا کی طرف سے شاہی قربانی چھ لیلے اور ایک دنبہ ضروری تھا۔سوختنی قربانی بھی اگنی دیوتا کے لئے ہوتی تھی اور اس کو عولی کہتے تھے۔حضرت سلیمان نے جب ہیکل تیار کی تو قربانیوں کی نوبت لاکھوں تک پہنچی۔روما میں سور کی۔یونان میں شراب کی قربانی بھی معمول تھا۔میکسیکو میں تین منزلہ مندر میں سبز پتھر پر قربانی ہوتی تھی۔برٹانیکا جلد۱۶۔۲۲۰ضرور ملاحظہ ہو۔دعا اور قربانی لازم و ملزوم۔جلد ۲۴۔۳۰۰ ڈاہومی میں بادشاہ کی وفات پر دو ہزار آدمی کی قربانی ہوتی ہے۔جلد۱نمبر۵۱ انگلستان میں دوروایڈسن قوم میں قربانی تھی۔انڈیا کی تمام اقوام میں جلد ۲۹۔۲۸۱سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانیاں ہوتی تھیں۔میں نے اپنی آنکھ سے جے پور کے پرانے محلات میں وہ مقام دیکھا ہے جس میں انسانی قربانی ہوتی تھی اور اب انگریزی امن کے باعث وہاں ہر روز ایک بکرے کی قربانی ہوتی ہے۔میں نے جب اس پیچ در پیچ مکان کو دیکھا تو مجھے انگریزی حکومت کی بعض برکتیں یاد آگئیں۔مہاراج کشمیر کی بیماری میں جس قدر قربانیاں چرند اور پرند کی ہمارے سامنے پنڈت لوگوں نے کرائی ہیں ان کی تعداد کو میں گن بھی نہیں سکتا اور مذہبی ناٹکوں میں ہم نے بچوں کی قربانی اور اس پر والدین کا منگل گانا ہماری آنکھ کے سامنے کا نظارہ ہے اور وہ ناٹک والے بھی پنڈت دیانند کے ملک کے ہی تھے۔