نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 178 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 178

مسیحی دین میں مسیح نے قربانی کا بہت لحاظ رکھا ہے اور تمام انبیاء بنی اسرائیل قربانی کے موید رہے مگر مسیحی مذہب میں آپ کے ہم نام صاحب پال نے انکار کیا۔پھر بھی ابتدا میں مسیحی لوگ قربانیاں کرتے رہے اور برے کی اتباع اور نربلی میں خدا کی اقتداء ہوتی رہی۔اور سچ پوچھو تو عیسائیوں کی نجات ہی ایک انسانی قربانی یا خود کشی پر موقوف ہے۔جب دنیا طلبی غالب ہو گئی تو قربانیوں کا روپیہ قربانیوں کے قائم مقام ہو گیا اور اس بہار کے بدلہ اصل قربانی موقوف ہو گئی برائے نام یا حقیقت اب بھی مسیح کا لہو اور گوشت عشاء ربانی میں کھایا جاتا ہے۔پر جیسے آپ نے حق کا خون کرکے ہزاروں ہزار مسلمانوں کا دل دکھایا ہے کیا تمہارے دل اور نرم دل نے اسے جائز کر لیاہے دل سے پوچھو؟اگر ستیارتھ کے مصنف کو کوئی حقارت سے یاد کرے تو کس طرح آریہ سماج آگ ببولا ہوتی ہے مگر کیسی بے انصافی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک اور قرآن اور بانی اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تحقیر کرتے ہوئے آپ لوگ دل کی نرمی اور شیریں کلامی اختیار نہیں کر سکتے اور کروڑوں مسلمانوں کا اس سے زیادہ دل دکھاتے ہیں جتنا کہ مذبوح جانور اور اس کی ماں بہن کا دل دکھتا ہو کیا حیوانات کا دل دکھتا ہے۔برٹانیکا انسائیکلو پیڈیا کی جلد نمبر۱صفحہ نمبر۵۵میں لکھا ہے اسحاق کی قربانی کا باب اصلی نہیں اور نہ پرانا ہے اور سچ بھی ہے کیونکہ اسماعیل کے جیتے اس کی جوانی کے قریب زمانہ میں اسحاق کا ذبح کرنا کوئی عظیم الشان امر نہیں۔ایک تیرہ برس کا بچہ موجود ہے اس وقت ایک سالہ کا قربان کرنا ایسا خطرناک نہیں جیسے تیرہ سالہ اکلوتے کا قربان کرنا۔پھر اسی کے جلد نمبر۱صفحہ ۵۵میں لکھا ہے کہ کنعانیوں میں جو قدیم استثناء فلسطین کے تھے ان میں انسانی قربانی کا رواج تھا۔جناب ابراہیم علیہ السلام نے اپنی رؤیا کے مطابق جب بجائے لڑکے کے مینڈہا ذبح فرمایا تو اس طریق سے انسانی قربانی کا ازالہ فرما کر حیوانی قربانی اس کے قائم مقام کر دی۔ہا ں پال !یہ تو بتاؤکہ تمہارے یہاں اگنی کنڈ میں اگنی دیوتا کے لئے جو کچھ ڈالا جاتا ہے اور اسے تم لوگ ہب کہتے ہو اور ہب میں کیا ہوتا ہے دیکھو یجروید صفحہ ۴۶ تیسرا ادھیا منتر نمبر۱ کی تفسیر۔