نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 173
نزدیک بھی دنیاہی سورگ اور نیکی کے ثمرات لینے کی جگہ ہے گو چنداعمال کے بدلے ارواح چندے شواغل دنیا سے بھی آزادی اور انند میں رہیں گے تو اس صورت میں دیانندی پنتھ کے مطابق غلمان نیکی کے ثمرات نہیں تو اور کیا ہیں!بات یہ ہے کہ سخت عداوت کے سبب تمہیں غلمان کا قصہ سمجھ میں نہیں آیا۔یا قرآن کریم کو نہ دیکھا ہے اور نہ سمجھا ہے۔افسوس کہ اس ادعائی تہذیب کے زمانہ میں یہ درشت زبانی!تمام قرآن کریم کا اردو ترجمہ بھی تم دیکھ لیتے اور تھوڑا سا ماقبل سے پڑھ لیتے تو بشرط انصاف تم ایسے خلاف تہذیب امر کے مرتکب نہ ہوتے۔سنئے ! قرآن میں ہے۔(الطور :۲۲تا۲۵) ہم مومنوں کے ساتھ ان کی مومن اولاد کو ملا دیں گے اور ان کے عملوں سے کچھ بھی کم نہ کریں گے ہر شخص کو اپنی اپنی کمائی کا بدلہ ملے گا اور ہم انہیں میوے اور ان کے پسند کے گوشت دیں گے اور اس میں ایسے پیالے پئیں گے کہ ان کا نتیجہ بے ہودہ خیالات اور بدکاری نہیں اور ان کے اردگرد موتیوں کے دانہ جیسے بچے پھریںگے۔باری تعالیٰ فرماتا ہے۔بہشتیوں کی اولاد ان کے پاس پھرے گی وہاں مومن اولاد کی جدائی کا غم نہ دیکھیں گے اور ان کے لئے نہ ترسیں گے۔جب لفظ تاثیم صریح اس کی صفت میں موجود ہے جس کے معنی ہیں نہ گناہ میں ڈالنا۔پھر آپ کو ایسا ناشان خیال کیوں گزرا؟ اس معنی کی تفسیر خود قرآن کریم نے سورہ دہر میں اور لفظوں کے ساتھ کی ہے اور وہاں غلمان کے بدلہ ولدان کا لفظ جو ولدیا ولید کی جمع ہے فرمایا ہے: (الدھر :۲۰) اور ان کے اردگرد عمر دراز بچے پھریں گے تم انہیں دیکھ کر یہی