نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 172 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 172

کے تیسرے دن تیسرے کے۔علیٰ ہذ ا سال بھر تین سو ساٹھ بچہ مختلف رحموں میں پرورش کے لئے دے سکتا ہے۔ہاں مرد قوی بہت عورتوں کے رحم میں بیج ڈال سکتا ہے۔اس لئے عورتوں کو بہت نوجوانوں کا ملنا بے انصافی ہے اور اس پر دکھ ہے۔نیز مرد ایک گونہ عورتوں پر حکمران ہے پس ایک مرد کے لئے بہت عورتیں ہوں تو عورت کو آرام ہے کہ مرد کی حکومت اس کے سر سے کچھ ہٹ گئی یا ایک عورت کے لئے بہت خاوند ہوں تو کیا عورت کو آرام مل سکتا ہے۔کیا جس کے اوپر بہت سارے حکمران ہوں وہ آسودہ حال ہو سکتا ہے۔علاوہ اس کے خاوند کیا آپس میں جنگ نہ کریں گے کیونکہ اگر بہت سارے مرد ایک عورت کے خاوند ہوئے تو ایک وقت ایک چاہتاہے کہ یہ عورت میرے پاس اور دوسرا چاہے کہ میرے پا س آوے اس لئے اول تو وہ آپس میں جوت پیزار کریں گے پھر وہ عورت بہرحال مصیبتوں میں مبتلا ہوگی۔نافہم انسان !سوچ اور غور کر!مگر تم کو غور کا مادہ کیونکر ملے گا تمہارا مذہب تو ایسے امور کی پروا نہیں کرتا۔کیونکہ نیوگ میں ایسے امور بہت پیش آتے ہیں۔سُن !بہشتی نعمتوں میں اسلام بیان کرتا ہے کہ بڑی نعمت خدا کی رضا مندی ہے۔دیکھوقرآن کریم (التوبۃ:۷۲) (یونس:۱۱) اور اللہ کی خوشنودی تمام نعمتوں سے بڑی ہے وہ اللہ کی پاکیزگی بیان کریں گے اور آپس میں سلامتی اور صلح سے رہیں گے اور آخری پکار ان کی یہ ہو گی کہ حمد ہے اللہ پروردگار کے لئے۔پس سچے مسلمان الٰہی رضا مندی کے گرویدہ ہو کر اس کی عبادت کرتے ہیں نہ اس بات کے لئے جس کی نسبت تم نے فضول گوئی کی ہے۔ہاں دنیا کی نعمتیں اور دنیوی عیش و آرام اور دولت مندی آریوں کے اعتقاد میں نیکیوں کا پھل ہے اور ظاہر ہے کہ غلمان بعض دولت مند ہندوؤں کے لوازمات میں داخل ہیں۔پس کیا یقینا یہ الزام آپ لوگوں پر نہیں ہو سکتا؟بلکہ جب دیانند کے