نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 160
الجواب۔اس مضمون پر میرے دل نے وچار کرنے اور غوروتامل سے کام لینے کے بعدجو راہ اختیار کی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری رحم دلی اورنیکی اور سلوک بہرحال اللہ کے وسیع رحم اور اس کی نیکی اور اس کے سلوک کے مقابلہ میں ہیچ ہے مگر خدا تعالیٰ نے اپنے قانون میں جس کو ہم دیکھ سکتے ہیں اور اس سے تعلیم حاصل کرسکتے ہیں ذبح کرنے اورجان نکالنے میں کس طرح کا سلوک ہمیں تعلیماً دکھایا ہے اس میں غور کرنی چاہیے۔ہم اپنے قریب زمین کے اندربلی اور چوہے کی حالت کو مطالعہ کرتے ہیں اور بچوں کی ابتدائی تعلیم میں پیارے بچے پڑھتے بھی ہیں بلکہ اس کی اس حالت کو جب وہ اپنے بچہ کو چوہے کا شکار کرنا سکھاتی ہے اس کا نظارہ کراتے ہیں کہ کس طرح ایک چوہے کو پکڑ کر اپنے بچہ کے ا ٓگے ڈالتی ہے اور وہ اس کے پیٹ کو مسلتا اور پھر وقفہ کے بعد اسے چھوڑتا ہے اور جب وہ آہستہ آہستہ اس سے جدا ہوتا ہے تو پھر کس طرح اپنے بچہ کے آگے لا کر ڈالتی ہے۔پھر کس طرح قتل کرتی ہے۔اور بڑا سانپ جنگلی جانوروں اور دوسرے مرغوں کو پکڑ کر کس طرح اپنے پیچوں میں لاکر ان کی ہڈیاں توڑ کر انہیں لقمہ بناتا ہے۔پانی کے مگر مچھ اور بڑی مچھلیاں کس طرح اپنے سے چھوٹے جانوروں کو ہلاک کرتے ہیں۔جنگلوں میں چیتے اور شیر اور کتّے اپنے شکاروں کے ساتھ کیا کیا سلوک کرتے ہیں؟ اور باز اور شکرہ پرند جانوروں سے کیا معاملہ کرتاہے۔اس نظارہ اور اس نظارہ کے متعلق رحیم دیالوکی دیالتا کو دیکھ کر اور اس قانون بنانے والے کی مہربانیوں پر نظر کرکے خدا کے پرستار کے اندر کیا اثر پیدا ہوتا ہے۔اگر فرض کریں کہ یہ نپر جنم کی سزائیں ہیں تو اوّل تو نپر جنم خود گورکھ دھندا ہے۔دوم دیالو نے ایسی خطرناک سزا کیوں تجویز کی اور اور راہ کیوں نہ نکالی؟ آریوں سے جینی الگ ہو کر اسی رحم کامطالعہ کرکے غلطی میں پڑ گئے اور خدا کے منکر ہو گئے۔ہمیں ایک بڑے عالم جموں کے پنڈت کا یہ قول اب تک یاد ہے جس نے کہا تھا کہ گوشت خوری وشراب اور خدا کا ماننا لازم ملزوم ہے۔دوسرا نظارہ وہ ہے جو مجھے خود علم طب میں ہر روز کرنا پڑتا ہے۔وہ یہ ہے ایک انسان کے کسی زخم