نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 159
ور ہوں گے یا نہیں؟ ہم تمہیں ایک بات سناتے ہیں۔دیانند نے لکھا ہے سرشٹی کی ابتدا سے لے کر ایک ارب چھیانوے کروڑ برس تک آریہ لوگ چکر ورتی را جہ رہے ہیں صرف پانچ ہزار برس سے بدبختی اور شقاوت نے انہیں دبایا ہے اور تم نے کہاہے کہ لمبا سکھ بھی ایک مصیبت ہے۔بنی اسرائیل کی پھر تم نے مثال بھی دی ہے وہ بیچارے تو صرف چالیس ہی برس جنگل میں رہے تھے تم دو ارب برس بھی مزہ اٹھا کر پھر بھی چین نہیں لیتے اور ہنوز مزہ اور آنند سے سیر نہیں ہوئے۔ہمیں تو تمہارے آریہ ورت میں آنند بھوگتے ہوئے گیارہ سو برس بھی نہیں ہوئے ہیں اور ابھی گویا ہم تھوڑے دنوں سے یہاں مہمان ہو کر آئے اور تم لوگ دو ارب برس سے ہو۔پھر بھی آریہ ورت کے پہلے سکھ تمہیں یاد آتے ہیں اور ان کے حاصل کرنے کی فکر لگی رہتی ہے اور آریہ اس کوشش میں لگے رہتے ہیںکہ دوسروں کی جگہ چھین کر خود ہر قسم کے سامان کے مالک ہوجائیں۔اگر میری بات میں شک ہو تو اپنے افسروں،مہارشیوں سے پوچھ لو یا اگر وہ علانیہ اعتراف نہ کر سکیں تو ان کے چال چلن اور برتاؤ سے خود پتا لگاؤ کہ وہ اپنے ماتحت مسلمانوں سے کیا سلوک کرتے ہیں اور تمہارے وکلاء اور جج اور افسر کن پسندیدہ اطوار سے مسلمانوں کے پاس آتے ہیں۔الانسان علی نفسہ بصیرہ ولو القی معاذیرہ۔فقرہ نمبر۲میں ارادہ تھا کہ برہموں لوگوں سے بہشت کے بارے گفتگو کریں کیونکہ وہ صرف روحانی بہشت کے قائل ہیں۔حالانکہ روح اور جان آدمیوں میں بلاجسم کوئی راحت اور رنج حاصل نہیں کر سکتی۔اور فقرہ نمبر۳میں نیچریوں اور حکماء سے گفتگو کرتے جو برہموں کے قریب قریب ہیں مگریہ آریہ کے بے جا اعتراضوں کا دماغ ہے۔اس لئے انسب معلوم ہوا کہ ایک خاص رسالہ بہشت و دوزخ پر لکھاجاوے۔سوال نمبر۳۷۔’’دنیا میں روح کو فنا کرنے والا سب سے بڑا گناہ یا مہاں پاپ گوشت خوری ہے۔‘‘