نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 154
ہو گی کہ سب حمد اللہ کے لئے جو رب العالمین ہے۔اس آیت پر غورکرنے والا غور کر لے کہ کس طرح بہشت میں جناب الٰہی کی تسبیحیں اور تحمیدیں کی جائیں گی اور کس طرح روحانی مزہ اٹھایا جائے گا اور باہمی بہشت میں وہ تعلقات ہوں گے جن کا بیان آیت ذیل میں ہے۔(الحجر :۴۶تا۴۸)تحقیق متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوںگے انہیں کہا جائے گا کہ ان میں سلامتی سے داخل ہو جاؤ اور امن میں رہو اور جو کینہ اور کپٹ دنیا میں ان کے دلوں میں تھا بہشت میںہم ان کے دلوں سے نکال ڈالیں گے وہ بھائی بن کر تختوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے۔اور اسی پر غور کرو کہ جب غیروں کے ساتھ بہشت والوں کا یہ سلوک ہوگا جس کا ذکر آیت بالا میں ہے تو اپنوں کے ساتھ کیا ہو گا مگر مزید تشریح کے لئے ہم دو تین حوالے دیتے ہیں جو سعادت مند کے لئے کافی ہیں۔(الرحمٰن :۷۱) ان میں اعلیٰ درجہ کی نہایت خوبصورت عورتیں ہوں گی۔(الواقعۃ :۳۸) خاوند سے پیار کرنے والیاں ہم عمر۔(الرّحمٰن :۵۸) جن کی نگاہیں ہر بدی سے کوتاہ ہوتی ہیں۔صرف خاوندوں تک محدود ہیں۔جس جنت میں ایک نیک سیرت خدا پرست مخلوق سے کامل سلوک کرنے والا رکھاجاوے اور اس میں کئی قسم کے قویٰ موجود ہوں تو اسے کیا بیوی نہیں ملنی چاہیے۔ہمارے نزدیک تو تمام فطری قویٰ جو اس وقت انسان کو دئیے گئے ہیں وہ نہایت اعلیٰ مدارج پر وہاں بھی عطا ہوں گے مگر سر دست ہم ان قوتوں کا بیان کرتے ہیں جن کا مکتی کی حالت میں بھی روحوں کے ساتھ موجود ہونا تمہارے ہاں ثابت ہے۔دیکھو ستیارتھ پرکاش صفحہ ۳۱۳جواب سوال ۱۷۔مقدم تو ایک قسم کی طاقت ہے مگر