نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 155
زور، ہمت، کشش، تحریک، حرکت، جوف، امتیاز، فعل، حوصلہ، یاد، یقین، خواہش، محبت، نفرت، ملاپ، جدائی ، ملانا ، جداکرنا، سننا، چھونا، دیکھنا، چکھنا، سونگھنا اور گیان یہ چوبیس قسم کی طاقتیں جیو رکھتا ہے۔اسی و جہ سے مکتی میں بھی آنند کے حصول سے محظوظ ہوتاہے۔اب ان قویٰ کو چند بار مطالعہ کرو زورہمت، کشش، تحریک، حرکت، جوف، خواہش، محبت، ملاپ، ملانا، جداکرنا۔ذرہ ان سب کو ملاؤ تو سہی پھر حوروں پر اعتراض کرو۔یہ تو مانتا ہوں کہ لفظوں کے معانی ادنیٰ بھی ہوتے ہیں اور اوسط اور اعلیٰ بھی۔مگر خدائی عبادت میں تو کسی جوف اور ملاپ چھونے اور ملانے اور جداکرنے کا کچھ ذکر کم ہی آتاہے اور اگر کھانے پینے کے تذکروں سے آپ کو ہمارے بہشت سے انکار ہے تو کیا چکھنا سونگھنا کچھ اور ہوتا ہے کھانے اور پینے کی چیزوں میںنہیں ہوتا۔اور اگر بہشت میں خوبصورت آوازوں کا سننا آپ کے نزدیک معیوب ہے تو روح کو سننا وہاں کیوں لگایا گیا ہے اور ستیارتھ پرکاش میںتو اور ذریعہ بھی لکھاہے دیکھو صفحہ ۳۳۵ اور اتنا سنئے جس طرح دنیوی سکھ جسم کے سہارے سے بھوگتاہے اسی طرح پرمیشورکے سہارے جیو آتما مکتی کے آنند کو پاتا ہے وہ مکت جیو غیر متناہی محیط کل برہم کے اندر اپنی خوشی کے موافق گھومتا ہے۔پاک علم سے تمام کائنات کو دیکھتاہے۔دوسرے مکتی پائے ہوؤں کے ساتھ ملتا ہے۔علم پیدائش کو ترتیب وار دیکھتا ہوا تمام مختلف دنیاؤں میں یعنی جتنی یہ دنیا ئیں نظر آتی ہیں اور نظر نہیں آتیں ان سب میں گھومتا ہے۔وہ تمام اشیاء کو جوا س کے علم کے آگے آتی ہیں دیکھتا ہے۔جس قدر گیان بڑھتا ہے اس کو اتنا ہی زیادہ آنند ہوتا ہے۔مکتی میں جیو آتما بے لوث ہونے کی وجہ سے پورا گیانی ہوتا ہے اور تمام اشیاء کو جو اس کے قریب ہوتی ہیں بخوبی معلوم کرتا ہے۔اب مکش اور نجات کے ورے سے اس جنم کے بعد اگر کوئی شخص ان نیک اعمال کو کرتا ہو امر جائے جن کے بدلے وہ ہندو ستان کا را جہ بنے اور اس کی بہت سی بیبیاں جو نیک نہاد اور پاک سرشت ہوں اور ان بیبیوں کے ماورائے کچھ اور بیبیاں بھی جن کے اعمال نیک ہوں اور وہ نیکی کے باعث اپسرہ (حوریں) بنیں اور اس را جہ ہند کے کچھ عمل ایسے بھی ہوں جن کے باعث ان اپنی بیبیوں اور