نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 153
را جہ وغیرہ کا جنم پاتے ہیں اور یہ باتیں مکت اور نجات سے بھی پیشتر حاصل ہوتی ہیں۔اب ان اصول کو مدنظر رکھ کر کوئی شخص مسلمانوں کے ان عقائد پر جو وہ مابعد الموت بیان کرتے ہیں کیا اعتراض کر سکتا ہے؟ ان باتوں سے جو خود پنڈت دیانند نے تسلیم کی ہیں کیسی صفائی سے ثابت ہو جاتاہے کہ جنت کی نعمتیں سچی اور حق ہیں۔صاف ظاہر ہے کہ جب ارواح اپنی طاقتوں اور خواہشوں کے ساتھ موت کے بعد بھی قائم رہتے ہیں اور اگر وہ طاقتیں نہ ہوں تو بقول دیانند کے مکتی کے انندسے کیونکر محظوظ ہو سکیں تو از بس ضروری ہے کہ ان طاقتوں کے مظاہر بھی موجود ہوں۔جس قدر حواس روح اپنے ساتھ رکھتی ہے ضروری ہے کہ ان حواس کو مسرور ومحظوظ کرنے کے سامان اور آلات اور جلوہ گاہیں بھی مہیا ہوں۔کان کے سرور اور آنند کے سامان اگر ضروری ہیں تو آنکھ کے سرور اور آنند کے آلات بھی از بس ضروری ہیں۔پھر قوت لامسہ اور قوت ذائقہ اور شامہ کو بھی اپنے مظاہر سے محروم نہیں ہونا چاہیے اور جب ان طاقتوں کے لئے اسباب سرور کا ہونا ضروری ہے تو کیا وجہ ہے کہ دوسرے جذبات اور قویٰ کے سامان نہ ہوں جنہیں اس عالم میں زندگی کے حظوظ میں اعلیٰ ترین مانا گیاہے اور موت کے بعد بھی وہ طاقتیں اور جذبات روح میں مرکوز ہو کر اس کے ساتھ ہوں گی۔اب ہم کسی قدر تفصیل کے ساتھ جواب دیتے ہیں۔مسلمانوں کے نزدیک بہشت نام ہے اس جگہ کا جہاں جیو(نفس)یا روح کو ہر طرح کی راحت اور آرام ملے وہ ایک اعلیٰ سرور کا مقام ہے جس میں انسانی حالت خدا تعالیٰ کے متعلق تویہ ہو گی جس کا بیان قرآن میں یہ آیا ہے۔(یونس :۱۱) اور ان کی پکار اس میں یہ ہو گی کہ اے اللہ تو پاک ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر ان کاقول سلام اور سلامتی ہو گا اور آخری پکار ان کی یہ