نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 116
’’تمام قرآن شریف میں یہ ایک عام عادت وسنت الٰہی ہے کہ وہ بعض نظری امور کے اثبات واحقاق کے لئے ایسے امور کا حوالہ دیتاہے جو اپنے خواص کا عام طور پر بیّن اور کھلا کھلا اور بدیہی ثبوت رکھتے ہیں جیسا کہ اس میں کسی کو بھی شک نہیں ہو سکتاکہ سورج موجود ہے اور اس کی دھوپ بھی ہے اور چاند موجود ہے اور وہ نور آفتاب سے حاصل کرتا ہے اور روز روشن بھی سب کو نظر آتا ہے اور رات بھی سب کو دکھائی دیتی ہے اور آسمان کا پول بھی سب کی نظر کے سامنے ہے اور زمین تو خود انسانوں کی سکونت کی جگہ ہے اب چونکہ یہ تمام چیزیں اپنا اپنا کھلا کھلا وجود اور کھلے کھلے خواص رکھتی ہیں جن میں کسی کو کلام نہیں ہو سکتا اور نفس انسان کا ایسی چھپی ہوئی اور نظری چیز ہے کہ خود اس کے وجود میں ہی صدہا جھگڑے برپا ہو رہے ہیں۔بہت سے فرقے ایسے ہیں کہ وہ اس بات کو مانتے ہی نہیں کہ نفس یعنی روح انسان بھی کوئی مستقل اور قائم بالذات چیز ہے جو بدن کی مفارقت کے بعد ہمیشہ کے لئے قائم رہ سکتی ہے اور جوبعض لوگ نفس کے وجود اور اس کی بقا اور ثبات کے قائل ہیں وہ بھی اس کی باطنی استعدادات کا وہ قدر نہیں کرتے جو کرنا چاہیے تھا بلکہ بعض تو اتنا ہی سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم صرف اسی غرض کے لئے دنیا میں آئے ہیں کہ حیوانات کی طرح کھانے پینے اور حظوظ نفسانی میں عمر بسر کریں وہ اس بات کو جانتے بھی نہیں کہ نفس انسانی کس قدر اعلیٰ درجہ کی طاقتیں اور قوتیں اپنے اندر رکھتا ہے اگروہ کسب کمالات کی طرف متوجہ ہو تو کیسے تھوڑے ہی عرصہ میں تمام عالم کے متفرق کمالات وفضائل وانواع پر ایک دائرہ کی طرح محیط ہو سکتاہے۔سو اللہ جلشانہ نے اس ۱؎ سورہ مبارکہ میںنفس انسان اور پھر اس کے بے نہایت خواص فاضلہ کا ثبوت دینا چاہا ہے پس اول اس نے خیالات کو رجوع دلانے کے لئے شمس اور قمر وغیرہ چیزوں کے متفرق خواص بیان کر کے پھر نفس انسان کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ جامع ان تمام کمالات متفرقہ کا ہے اور جس حالت میں نفس میں ایسے اعلیٰ درجے کے کمالات وخاصیات بتمامہا موجود ہیں جو اجرام سماویہ اور ارضیہ میں متفرق طور پر