نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 115
تاکید کے لئے ہر زبان میں مختلف کلمات ہوا کرتے ہیں ایسے ہی عربی زبان میں بھی تاکید کے لئے بہت الفاظ ہیں۔مگر ایشائی زبانوں میں۔۔۔علی العموم قسم سے بڑھ کر کوئی تاکیدی لفظ نہیں۔ایسے ہی عربی کے لٹریچر میں بھی قسم سے زیادہ کوئی تاکید ی لفظ نہیں۔قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا اس لئے اس میںعربی محاورات پر ضروری مطالب میں قسموں کا استعمال بھی ہوا ہے۔رہی یہ بات کہ اہم اور ضروری امور میں براہین اور دلائل کا بیان کرنا بھی ضروری ہوتاہے قرآن کریم نے ان مطالب میں قسموں کے علاوہ اور کیا ثبوت دیا ہے۔سو یاد رہے جہاں قرآن کریم کسی مطلب پر قسم کو بیان کرتا ہے وہاں جس چیز کے ساتھ قسم کھائی گئی ہے وہ چیز قانون قدرت میں قسم والے مضمون کے لئے ایک قدرتی شاہد ہوتی ہے اور یہ قسم قدرتی نظاروں میں اپنے مطلب کی مثبت ہوتی ہے جو قسم کے بعد مذکور ہوگا۔مثلاً۔الخ(اللیل:۵) ایک مطلب ہے جس کے معنے ہیں۔لوگو!تمہارے کام مختلف ہیں اور ان کے نتائج بھی الگ الگ ہیں۔قرآن مجید اس مطلب کو قانون قدرت سے اس طرح ثابت کرتا ہے۔(الیل ۲تا۴)کیا معنے ؟ رات پر نظر کرو جب اس کی کالی گھٹا چھا جاتی ہے پھر دن کی بناوٹ پر غور کرو جب وہ اپنے انوار کو ظاہر کرتا ہے پھر مرد اور عورت کی خلقت اور بناوٹ پر نظر ڈالو اور ان کے قدرتی فرائض اور واجبات کو سوچو تو تمہیں صاف طور پر عیاں ہو گا کہ بے ریب تمہاری کوششیں الگ الگ اور ان کے نتائج علیحدہ علیحدہ ہیں ایسے ہی باری تعالیٰ کے نام پر جان ومال کو دینے والے اور نافرمانیوں سے بچنے والے اور اعلیٰ درجہ کی نیکی کے مصداق اور اس کے مقابل جان اور مال سے دریغ کرنے والے نافرمان اور اعلیٰ درجہ کی نیکی کے مکذب بھی الگ الگ نتیجہ حاصل کریں گے۔حضرت امام حجۃ الانام نے توضیح میں فرمایا ہے: