نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 117
پائے جاتے ہیںتو کمال درجہ کی نادانی ہو گی کہ ایسے عظیم الشان اور مستجمع کمالات متفرقہ کی نسبت یہ وہم کیا جائے کہ وہ کچھ بھی چیز نہیں جو موت کے بعد باقی رہ سکے یعنی جب کہ یہ تمام خواص جو ان مشہود ومحسوس چیزوں میں ہیں جن کا مستقل وجود ماننے میں تمہیں کچھ کلام نہیں۔یہاں تک کہ ایک اندھا بھی دھوپ کا احساس کر کے آفتاب کے وجود کا یقین رکھتا ہے۔نفس انسان میں سب کے سب یکجائی طور پرموجود ہیں تو نفس کے مستقل اور قائم بالذات وجود میں تمہیں کیا کلام باقی ہے۔کیا ممکن ہے کہ جو چیز اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں وہ تمام موجود بالذات چیزوں کے خواص جمع رکھتی ہو؟اور اس جگہ قسم کھانے کی طرز کو اس وجہ سے اللہ جل شانہ نے پسند کیا ہے کہ قسم قائم مقام شہادت کے ہوتی ہے۔اسی وجہ سے حکام مجازی بھی جب دوسرے گواہ موجود نہ ہوں تو قسم پر انحصار کر دیتے ہیں اور ایک مرتبہ کی قسم سے وہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں جو کم سے کم دو گواہوں سے اٹھا سکتے ہیں۔سو چونکہ عقلاً ۱؎ و عرفاً و قانوناً و شرعاً قسم شاہد کے قائم مقام سمجھی جاتی ہے لہٰذا اسی بناء پر خدائے تعالیٰ نے اس جگہ شاہد کے طور پر اس کو قرار دیا ہے۔پس خدا تعالیٰ کا یہ کہناہے کہ قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی درحقیقت اپنے مراد ی معنے یہ رکھتا ہے کہ سورج اور اس کی دھوپ یہ دونوں نفس انسان کے موجود بالذات اور قائم بالذات ہونے کے شاہد حال ہیں۔کیونکہ سورج میں جو جو خواص گرمی اور روشنی وغیرہ پائے جاتے ہیںیہی خواص مع شئی زائد انسان کے نفس میں بھی موجود ہیں۔مکاشفات کی روشنی اور توجہ کی گرمی جو نفوس کاملہ میں پائی جاتی ہے اس کے عجائبات سورج کی گرمی اور روشنی سے کہیں بڑھ کر ہیں۔سو جب کہ سورج موجود بالذات ہے تو جو خواص میں اس کا ہم مثل اور ہم پلہ ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہے یعنی نفس انسا ن ہے وہ کیونکر موجود بالذات نہ ہو گا۔اسی طرح خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ قسم ہے چاند کی جب وہ سورج کی پیروی کرے اس کے مرادی معنے یہ ہیں کہ چاند اپنی اس خاصیت کے ساتھ کہ وہ سورج سے بطور استفادہ نور حاصل کرتا ہے نفس انسان کے موجود بالذات