نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 76
بہشت کو وہ خراب خانہ بنا دیاہے کہ جہاں جانا بھلے مانسوں کاکام تو ہرگز نہیں ہے‘‘۔صفحہ۲۶ ’’مگر میں اتنی بڑی گپوں اور خلاف ازقانون گپوں کو ہرگز نہیں مان سکتا‘‘۔صفحہ۴۳’’یہاں تو پرانوں سے بھی بڑھ کر لِیلا موجود ہے۔‘‘ صفحہ۴۳ ’’الہامی گپوں کا گھر ہے‘‘۔صفحہ ۴۴’’قرآن اور پران ہم وزن ہونے کے علاوہ فرضی قصّوں کہانیوں سے کس قدر بھرے ہیں۔سچ پوچھو تو دونوں سگے بھائی ہیں اور دونوں ہی زمانہ جہالت میں پیدا ہوئے‘‘۔صفحہ۴۶’’مگر قرآن کا بخیہ معلوم نہیں کون ادھیڑ دے گا‘‘۔صفحہ۴۸’’ماننے والے بھی ہوں تو اہل قرآن ہی ہوں جو پہلے قانون قدرت اور عقل سلیم کو پاگل خانے کے داروغہ کے ہاتھ گروی کر دیں‘‘۔صفحہ۳۵’’خدا فریب کرتاہے دھوکہ بازی کرتا ہے‘‘۔صفحہ۱۴ ’’خدا بڑا لڑاکا ہے‘‘۔صفحہ۱۴’’اس سے بڑھ کر مکروہ تعلیم اور کیا ہو گی‘‘۔صفحہ۱۵’’کیا خدا کی غفاری قیامت کے دن اڑجائے گی اور سنگ دل ہوجائے گا۔مگر خدا کے کان بہرے ہو گئے ہیں کچھ نہیں سنتا‘‘۔صفحہ۱۵،۱۶’’خدا کو شیطان کا شیطان بنا دیا گیا ہے‘‘۔صفحہ ۱۷’’خدا بھنگڑوں کا بھنگڑا جہاں بھنگی بھنگ پی کر ایک دوسرے کو مخول کرتے ہیں وہاں خدا بھی بیچ میں آ کودتا ہے اور ویسا ہی بھنگڑاپن شروع کر دیتاہے‘‘۔صفحہ ۱۷’’قرآن کو پڑھنے سے معلوم ہوتاہے کہ اس کی روح ایک عورت کے رحم میں بھی جا سکتی ہے اور خون حیض کھا سکتی ہے اور نو مہینے غلاظت میں پڑی رہ کر برسوں تک انسانی جامہ میںہو کر بذریعہ پھانسی نجات پاسکتی ہے‘‘۔صفحہ۱۹’’یہ کتنی بڑی گپ بلکہ گپ کا بھائی گپوڑا ہے‘‘۔صفحہ۴۵’’بھلا خدا بھی کنکریاں روڑے ماراکرتا ہے۔روڑے مارنا نادان بچوں کا کام ہے نہ کہ عقل مند وں کا‘‘۔صفحہ’’خدا خود دوزخ میں جاوے‘‘۔صفحہ’’عورتوںکو محض جذبہ مخصوصہ کی سیری کا سامان تصور کیا گیا‘‘۔صفحہ ۵۵’’معلوم نہیں عربی خدا نے عربوں کی کیوں تقلید کی‘‘۔صفحہ۱۸’’کیا وہ پاگل ہو گیا تھا‘‘۔صفحہ۱۸’’اب سزا کس کو ملے۔خدا کو یا شیطان کو‘‘۔صفحہ ۲۰ ’’اب خدا کو دوزخ میں ڈالاجاوے یا جس نے خد ا پر یہ من گھڑت الزام لگائے‘‘۔صفحہ۲۰ ’’چاہیے کہ خدا خود دوزخ میںپڑے ان کے سمجھانے کو نبی بھیجنا سراسر حماقت ہے‘‘۔صفحہ۲۰