نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 325 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 325

بہرحال سنئے۔ہم نے مقطعات کا جواب کچھ تو پہلے ہی سوال کے جواب میں صفحہ نمبر۳میں دیا ہے مگر شاید کسی سلیم الفطرت کو فائدہ ہو اس لئے تفصیل کے ساتھ جواب لکھتے ہیں۔ہمارا جواب الزامی بھی ہو گا اور نقلی بھی مگر آخر عقلی بھی۔والحمد للہ رب العالمین۔پھر الزامی جواب کی تین قسمیں ہوں گی۔ایک خود تمہارے ساتھ خاص ہو گا اور دوسرا تم سے علاوہ مناظر قدرت میں دکھائیں گے کہ اللہ تعالیٰ کو اسلام کی کس قدر خاطر منظور ہے کہ جو سوال مخالفوں نے اسلام پر کیا ہے خو د اس اعتراض کے ہدف ہیں اور محض ہٹ دہرمی سے اسلام پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔(الانفال :۴۳) اور تیسرا جواب خود وید سے اور آریہ کی مسلّم کتب سے دیں گے۔ہمارا نقلی جواب بھی تین ہی حصوں پر منقسم ہو گا۔اوّل اقوال صحابہ کرام سے دوم تابعین صحابہ کے کلمات صحیحہ سے اور علماء سے اور دکھائیںگے کہ ہمارے ائمہ میں اختلاف وتضادان کے معانی میں نہ تھا بلکہ عربی علوم میں یہ عام رواج ہے۔پھر ساتواں جواب عقلی ہو گا کیونکہ سات کا عدد کامل عدد ہے اسی واسطے سات طبقات پر زمین۔بحار اور آسمانوں کا قیام ہے دیکھو بھومکا رگوید کا ترجمہ صفحہ ۸۱۔اوّل اگر مقطعات کا استعمال معمے وچیستان اور پہیلی ہے اور اس لئے تم کو اس سے تنفر ہے تو ایف اے اور پھر بی اے کیوں ہوئے اور اس پر تمہارا فخر کیوں ہے۔تم نے بی اے ہونے سے دکھایا ہے کہ تم نے دھوکا نہیں کھایا اور بی اے وغیرہ تو مقطعات ہیں مطلب تم نے خوب سمجھ لیا کہ بی اے اگر معمّا نہیں تو الٓمّٓ کیوں ۱؎ معمّاہے۔دوم تمہارا منہ کالا کرنے کو اس وقت تمام دنیا کے مہذب بلاد اور تعلیم یافتہ قوموں کی دکانوں، مکانوں، چیزوں، ناموں، عہدوں، ڈگریوں اور اعلیٰ عزت و عظمت کے خطابوں میں انہی معمے و پہیلی ومقطعات کا استعمال ہو رہا ہے لوگوں نے ہی عام طورپر اس کو قبول نہیں کیا بلکہ گورنمنٹ نے