نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 324 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 324

سوال نمبر۱۱۶۔قرآن ہدایت کے لئے ہے مگر اس میں معمولی بجھارتوں کا کیا مطلب۔حروف مقطع کا اصل کسی کی سمجھ میں نہیں ا ٓیا۔اصحاب بھی زور لگا چکے۔پھر قصہ اصحاب الفیل کا ذکر کیا ہے۔(الکوثر :۴) کا ترجمہ کیا ہے تیری بزرگی کی قسم کہ وہ شخص ابتر ہے۔اور قرآنی خدا اور شیطان کے جھگڑے۔آدم وحوا کے فسانے۔گھناؤنی بہشت۔ڈراؤنے دوزخ۔توبہ واستغفار۔شفاعت۔حشرونشر۔حساب وکتاب۔ترازو۔پلڑا۔فرشتہ۔جن۔گوشت خوری۔حیوانی قربانی۔پتھروں کے چومنے مکان کے اردگرد گھومنے۔دن کو بھوکا رکھنے۔رات کوخلاف قاعدہ کھانے۔عبادت میں ٹانگ ہاتھ ہلانے۔اٹھنے۔بیٹھنے۔عورتوں پر جبر۔مالایعنی باتوں کو نہ ماننے والے مگر اعلیٰ زندگی رکھنے والوں کو کافر کہنے۔ان سے نفرت۔لڑنے بھڑنے۔لوٹنے۔گھسوٹنے۔قید کرنے۔قتل کرنے۔خدا کے ساتھ دوسرے کو شریک کرنے کی باتیں قرآن میں ہیں۔نیوگ زنا کا بیخ کن ہے۔عورت کوبجائے کھیتی اور غلام کہنے کے اروہ انگنی اور اولاد کے لئے بتایا گیا ہے مگر عورت کو اسلام نے گائے بکری سمجھا ہے جب چاہا رکھ لی اور جب چاہا نکال دی۔بال برہم چاریہ دیانند تھے۔الجواب۔منصف ناظرین ذراسوال کو دیکھیں کہنے کو تو ایک سوال ہے اور لکھنے کو چھتیس بلکہ چالیس سوال ہیں۔ان میں جتنی گندی باتیں ہیں اور جتنی اچھی ہیں سب ہی ویدک دھرم میں موجود ہیں مگراتنی بات ہے کہ اسلام ان میں سے سچی اور صحیح باتوں کاقائل ہے اور تمام گندی اور قابل نفرت باتوں سے پاک ہے۔علاوہ بریں قرآن کریم تمام خوبیوں سے موصوف ہے اور ہماری گواہی تو سچ ہے کیونکہ ہم نے اسلام کے اندرونی اور بیرونی حالات سے پوری آگہی کے بعد لکھا ہے اور تمہاری گواہی غلط ہے کیونکہ تم قرآن ووید دونو ں میں سے بے خبر ہو۔قرآن مجید سے بے خبری کا ثبوت تمہارا رسالہ ترک اسلام ہے اور ویدوں میں سے بے خبری یہ ہے کہ تم جس روز یہ لیکچر دیتے ہو اس روز تم آریہ سماجی ہوئے۔کے آمدی وکے پیرشدی۔