نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 158 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 158

میں کسی کا محتاج نہیں اگر ان کے دل میں آوے بھی کہ ان بیبیوں کے لئے ہم ریشمی کپڑے سلوائیں گے تو وہ کپڑے کہاں سے آئیں گے اور اتنی کلیں کہاں سے آئیں گی ان کا ایمان انہیں بہت جلد مطمئن کر دیتا ہے کہ ہمارا پرمیشر سرب شکتی مان ہے اور پرکرتی کی نہایت عظیم الشان سامگری اس کے پاس ہے اور اس کا وہ خالق ہے۔اس کو کیا فکر ہے۔اب بھی کس قدر ہاتھیوں وہیل مچھلیوں بجلیوں روشنیوں ایتھروں اور اربوں کیڑوں مکوڑوں کا اور جیون کا سامان کیا اس کے پاس نہیں۔روح ہے اور رہے گی ہمارے آریہ مخالفوں کو یہ امر مسلم ہے دیکھو حوالاجات بالا پھر روحوں کو بقا اور آنند کی خواہش بھی ہے ہم سب یا کم سے کم میں تو اپنے اندر یہ شوق پاتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اسی طرح اوروں میں بھی یہ خواہش ہو گی پرم ایشر ست چتآنند کے پاس کچھ کمی نہیں اور ہماری خواہش بقا اور آنند کے علاوہ اس میں دیالتا کی صفت بھی ہے پھر اس دیالتا کے ساتھ انتریامی بھی ہے اور بخیل نہیں اور نہ کنجوس پھر جس شخص کی نیک اعمال میں بدیاں حارج بھی نہ ہوں تو اس کو سرگ میں پہنچنے کے لئے مشکلات کیا ہیں۔ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں کہ آریہ کے نزدیک بھی یہ چار صفات رو ح میں موجود ہیں روح کی طلب موجود روح طلب کنندہ موجود اس روح کے مطالب کے لئے نفع اٹھانے کے لئے قوتیں موجود۔پھر پرمیشر جیسا داتا موجود۔طالب بھگت ہے شریر نہیں۔پس کیا ہے جو وہ چاہے اور وہ نہ ہو۔ہم تو یقین کرتے ہیں کہ جہاں شیو ہیں وہاں پاربتی بھی ہیں۔ہمارے نزدیک نہیں مگر روح ابتداء سے غیر متناہی زمانہ سے ہے اور یہ تمہارا مسلّم اصل ہے اور آئندہ کے لئے بھی غیر متناہی ہے۔یہ بھی تمہارا ہمارا مسلم مسئلہ ہے اور ہر روزہ ترقی ہمارا مشاہدہ ہے پھر سوچو کہ ترقی کن ہستی کو ترقی پسند ہے یا تنزل۔اور سوچو کہ بہشت کی نعمتیں قویٰ کی ترقی کے نتائج ہیں یا نہیں اور اس کے نہ مٹنے والے اور ساتھ جانے والے جذبات کے مظاہر ہیں یا نہیں؟ اور ہوں گے یا نہیں؟ ا ) ۱۔اللہ رب العالمین الحاکمین القادر ہے۔۲۔مادہ۱۲ ۳۔سامان۱۲ ب ) ۱۔ہی ۲۔علیم ۳،۴۔سرور ۵۔رحم ۱۲ ۶۔علیم بالذات الصدور ۱۲