نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 157 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 157

مارکوئیس بنا، فلانا جدید ایجاد کے سبب سے آج ملک میں ممتاز ہے آہ !وہ ہمارا ہم مکتب تھا یا ہمارا غریب پڑوسی تھا اور ان کی طبیعتیں ان اخباری حوالوں کے ساتھ سست وکاہل بھی نہیں تھیں۔جوش میں اٹھے سیلف ہلپ کی خوبصورت جلد ہاتھ میں آئی تو وہ اور بھی تازیانہ ہوا۔ادھر دیکھا کہ بیوی بچے ان ترقیات کے حارج ہیں جب اس چند روزہ زندگی میں بیبیاں ترقیات کی حارج ہیں تو بہشت میں بھی غالباً وہ ہمیں حرج دیں۔پھر وہ جن کو شادی کے اخراجات نے پھر بچوں کی شادیوں کے اخراجات نے حیران کر دیاہے۔ہمارے سامنے اچھے ساہوکاروں نے ہاتھ باندھ باندھ کر درخواست کی ہے کہ کوئی انسداد اولادکی راہ بتاؤ۔ہم شادیوںکا خرچ برداشت نہیں کرسکتے۔سر تقدم الانکلیز کتاب میںایک فرانسیسی واویلا مچاتا ہے کہ شادیوں کے اخراجات نے ہماری نسل کو انگریزوں کے مقابلہ میں بہت ہی کم تعداد اور کمزور کر دیا ہے۔پھر وہ جنہوں نے دوسروں کی بیبیوں سے عیاشی کی اور یقین کر لیا کہ جس طرح ہم دوسرے کے غمگسار کو اپنے کاموں میں لاتے ہیں اسی طرح وہ دوسرے ہمارے غمگساروں کو اپنے کام میںلائیں گے۔پھر وہ جن کی فطرتیں بہت ہی پاکیزہ ہیںمگر قومی رواجوں اور بے پردگیوں میں عورتوں کو خطرناک آزادیوں میں دیکھتے ہیں تو گھبرا کر بہشتی بیبیوں سے بھی نفرت کا اظہار کرتے ہیں مگر جن کو یقین ہے کہ (النور :۲۷)اور اعتقاد رکھتے ہیں اور ان کا اعتقاد واقعی ہے کہ جنت پاکیزگی اور پاکبازوں کی جگہ ہے۔وہاں کے پڑوسی بھی طیب بیبیاں بھی طیبہ آپ بھی طیب اور ضعف وپیری کانام نہیں نہ ان خطرات کا کوئی موقعہ ہے جو صدمات اور امراض سے پیدا ہوتے ہیں اور افکار اور افلاس کاہلی اور سستی ترقیات کے مشکلات اور حرجوں اور کسی قسم کے انفعالات نفسانیہ کا موقعہ وہاں نہ ہوگا۔اور وہ لوگ بھی کیونکر انکار کریں جن کا اعتقاد ہے کہ پرمیشر سرب شکتی مان ہے اور وہ اپنے کاموں میں