نُورِ ہدایت — Page 856
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کے ایک اور معنے بھی فرمایا کرتے تھے جو میں نے خود آپ کی زبان سے سنے ہیں۔آپ فرماتے تھے بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا سے مراد یہ ہے کہ بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى إِلَى اِمَامِ الزَّمَانِ یعنی جس کی طرف وحی کی گئی ہے اس سے مراد آنحضرت علی یہ بھی ہیں اور امام الزمان بھی جس کی طرف اس وقت کہ ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا وقت قریب ہوگا دوبارہ وحی کی جائے گی۔آپ کا مطلب یہ تھا کہ دنیا میں مختلف قسم کے زلازل کے ظہور کے متعلق جو خبریں آپ کو دی گئی تھیں ان کی طرف بھی اس میں اشارہ ہے۔چونکہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ یہ زلازل پہلے کیوں نہیں آئیں گے۔اس وقت کیوں آئیں گے جب مسیح موعود کی بعثت ہوگی؟ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ زلازل اس وقت اس لئے آئیں گے کہ یہ اس کی سچائی کی علامت قرار دئیے گئے ہیں۔چنانچہ جب مسیح موعود آئے گا اور اس علامت کے ظہور کا زمانہ قریب آ جائے گا اللہ تعالیٰ پھر اپنا الہام نازل کر کے مسیح موعود کو خبر دے گا کہ لو وہ زمانہ اب آ گیا جس کی ہم قرآن کریم میں خبر دے چکے تھے۔اس طرح تکرار الہام نہ صرف زمانہ زلازل کے قرب پر دلالت کرے گا بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہوگا کہ یہی وہ مامور ہے جس کی سچائی ثابت کرنے کیلئے زلازل کا ظہور ہورہا ہے۔پس اس وحی کے بعد دنیا میں زلازل کا سلسلہ اس لئے شروع ہوگا تا کہ یہ زلازل امام زمان کی سچائی کا ثبوت قرار پائیں اور دنیا غور کرے کہ اگر وہ خدا تعالیٰ کا مامور نہیں تو آخر کیا وجہ ہے کہ جب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا تھا کہ بڑے بڑے زلازل سے دنیا کا نقشہ پلٹنے والا ہے اس نے ان تاریک دنوں کی خبریں دی اور پھر وہ حرف بحرف پوری ہوگئیں۔غرض موحی راکیہ دونوں ہیں۔رسول کریم علی بھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی۔رسول کریم ملایم وحی اول کے لحاظ سے اور مسیح موعود وحی ثانی کے لحاظ سے۔إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَاخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقالَهَا کی پہلی وحی چونکہ رسول کریم پر نازل ہوئی اور در حقیقت آپ کی صداقت کے اظہار کیلئے ہی قیامت تک تمام 856