نُورِ ہدایت — Page 855
ضرور ہو کر رہے گا۔پس چونکہ اللہ تعالیٰ اپنی وحی کے ذریعہ یہ خبر دے چکا ہے کہ اخرجت الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا۔اہل زمین اپنے گند ظاہر کر دیں گے اس لئے اب یہ اٹل فیصلہ ہے اور خدائی تقدیر کا ہاتھ اس کو بہر حال پورا کر کے رہے گا۔کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی بات کی اپنی وحی کے ذریعہ خبر دے دے اور اسے کسی مامور کی سچائی کی علامت قرار دے دے تو پھر وہ کبھی ٹلا نہیں کرتی۔آوحی کا صلہ ہمیشہ الی استعمال ہوتا ہے مگر اس جگہ آؤحی کے بعد لام استعمال کیا گیا ہے۔ایسا کیوں ہوا ہے؟ مفسرین نے اس کا یہ جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ بعض قبائل عرب میں الی کی بجائے لام بھی بطور صلہ استعمال ہوتا ہے۔مگر ہم اس توجیہ کو درست تسلیم نہیں کر سکتے۔قرآن کریم میں پینسٹھ جگہ وحی کا لفظ آیا ہے اور ہر جگہ الی کا صلہ ہی استعمال ہوا ہے اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ یہاں الی کی بجائے لام کے صلہ کا جواز نکالا جائے۔بعض اور مفسرین نے اس جواب کی غلطی کو محسوس کیا ہے اور انہوں نے اس کے معنے یہ کئے ہیں کہ اوحی الی الْمَلَائِكَةِ لَهَا یعنی جس کی طرف وحی کی گئی ہے اس کے ذکر کو محذوف تسلیم کیا ہے۔یہ توجیہ درست ہے لیکن میرے نزدیک یہاں آؤ حى إلى الْمَلَئِكَةِ مراد نہیں بلکہ أَوْحَى إِلَى رَسُولِ اللهِ مراد ہے اور معنے یہ ہیں کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلیم کو وحی کے ذریعہ یہ خبریں دے رکھی ہیں اس لئے اب ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔یہ بات رک نہیں سکتی۔ہم نے اپنی وحی میں یہ خبر دے دی ہے کہ اس زمانہ میں جب مسیح موعود آئے گا اور جو ہمارے رسول کی دوسری بعثت کا زمانہ ہوگا یہ علامات رونما ہوں گی۔پس بیشک اور باتیں ٹل سکتی ہیں مگر یہ علامت کبھی ٹل نہیں سکتی کیونکہ جس چیز کو کسی مامور کی شناخت کے متعلق بطور علامت قرار دے دیا جائے وہ کبھی ٹلا نہیں کرتی۔اس اصول کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنی کتب میں بیان فرمایا ہے اور لکھا ہے کہ بے شک انداری خبریں ٹل جایا کرتی ہیں مگر وہ انداری خبریں جو اللہ تعالیٰ کے کسی مامور کی علامت کے طور پر بیان ہوئی ہوں کبھی نہیں ٹلتیں۔بلکہ وہ اسی طرح پوری ہوتی ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے خیر کے امور پورے ہوتے ہیں۔855