نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 857 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 857

نشانات کا ظہور ہوگا اور جو شخص بھی لوگوں کی ہدایت کیلئے کھڑا ہوگا وہ بہر حال آپ کا غلام ہوگا۔اس لئے اول مصداق اس آیت کے رسول کریم علیہ عالم ہیں مگر چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس زلزلہ عظیمہ کے اظہار کو روکے رکھا جب تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر دوبارہ الہام نازل نہ ہوا تا وہ بات پوری ہو جو لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوْا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ رَسُولٌ مِن اللہ میں بیان کی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ محمد رسول الله علیم اپنے مثیل کے ذریعہ ایک اور زمانہ میں بھی ظاہر ہوں گے اور دوبارہ لوگوں کو کفر و شرک کی تاریکیوں سے نجات دیں گے اس لئے اس آیت کے دوسرے مصداق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مقدر کیا ہوا تھا کہ یہ زلزلہ اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک دوبارہ اس شخص پر وحی نازل نہ ہو جائے جو مثیل ہوگا آ نحضرت علایم کا اور جس کی سچائی کے لئے اسے علامت قرار دیا گیا ہے۔پس موحی الیه آنحضرت علی بھی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی۔اور بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا میں ان دونوں وجیوں کی طرف اشارہ ہے۔وحی اوّل کی طرف اس لئے کہ وہ بادی ہے اور وحی ثانی کی طرف اس لئے کہ وہ مثال کے رنگ میں وہی جلوہ دوبارہ ظاہر کرنے والی ہے جو آنحضرت ملایم کے ذریعہ ظاہر ہوا۔يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ اشْتَاتًا لِيُرَوُا أَعْمَالَهُمْ اشتاتا کے معنے ہیں متفرقین یعنی گروہ در گروہ۔مفسرین نے اس کے معنے آخرت کے لحاظ سے کئے ہیں۔چونکہ انہوں نے تمام سورۃ کو آخرت پر چسپاں کیا ہے اس لئے اس کے معنے بھی انہوں نے نیک و بد جنتی و دوزخی اور سفید و سیاہ کے کئے ہیں۔اسی طرح وہ آشتانا کے معنے دائیں طرف والے اور بائیں طرف والے کے کرتے ہیں۔میں چونکہ اسے آخری زمانہ کے متعلق سمجھتا ہوں جس میں رسول کریم علی ایم کی بعثت ثانیہ 857