نُورِ ہدایت — Page 778
جو اہل لغت کے منہ پر چڑھے ہوئے ہیں گمراہ کے ہیں جس کے اعتبار سے آیت کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے (اے رسول اللہ ) تجھ کو گمراہ پایا اور ہدایت دی۔حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی گمراہ نہیں ہوئے اور جو شخص مسلمان ہو کر یہ اعتقادر کھے کہ کبھی آنحضرت صلعم نے اپنی عمر میں ضلالت کا عمل کیا تھا تو وہ کافر بے دین اور حد شرعی کے لائق ہے۔بلکہ آیت کے اس جگہ وہ معنی لینے چاہئے جو آیت کے سیاق اور سباق سے ملتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے پہلے آنحضرت صلعم کی نسبت فرمایا أَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيَّا فَأَوَى وَوَجَدَكَ ضَأَلَّا فَهَدَى وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْلى یعنی خدا تعالیٰ نے تجھے یتیم اور بیکس پایا اور اپنے پاس جگہ دی اور تجھ کو منال ( یعنی عاشق وجہ اللہ ) پایا پس اپنی طرف کھینچ لایا اور تجھے درویش پایا پس غنی کر دیا۔ان معنوں کی صحت پر یہ ذیل کی آیتیں قرینہ ہیں جو ان کے بعد آتی ہیں یعنی یہ کہ فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرُ وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهرُ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبَّكَ فَحَيثُ - کیونکہ یہ تمام آیتیں لف نشر مرتب کے طور پر ہیں اور پہلی آیتوں میں جو مدعا مخفی ہے دوسری آیتیں اس کی تفصیل اور تصریح کرتی ہیں مثلاً پہلے فرمایا أَلم يَجِدُكَ يَتِيما فاوی اس کے مقابل پر یہ فرمايا فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ یعنی یاد کر کہ تو بھی یتیم تھا اور ہم نے تجھ کو پناہ دی ایسا ہی تو بھی یتیموں کو پناہ دے۔پھر بعد اس آیت کے فرمایا وَ وَجَدَكَ ضَالًا فَهَدَی اس کے مقابل پر یہ فرمایا وَأَما السَّائِلَ فَلا تنهر یعنی یاد کر کہ تو بھی ہمارے وصال اور جمال کا سائل اور ہمارے حقائق اور معارف کا طالب تھا سو جیسا کہ ہم نے باپ کی جگہ ہو کر تیری جسمانی پرورش کی ایسا ہی ہم نے استاد کی جگہ ہو کر تمام دروازے علوم کے تجھ پر کھول دیئے اور اپنے لقا کا شربت سب سے زیادہ عطا فرمایا اور جو تو نے مانگا سب ہم نے تجھ کو دیا سوتو بھی مانگنے والوں کو ر دمت کر اور ان کومت جھڑک اور یاد کر کہ تو عائل تھا اور تیری معیشت کے ظاہری اسباب بکلی منقطع تھے سو خدا خود تیرا متوئی ہوا اور غیروں کی طرف حاجت لے جانے سے تجھے غنی کر دیا۔نہ تو والد کا محتاج ہوا نہ والدہ کا نہ استاد کا اور نہ کسی غیر کی طرف حاجت لے جانے کا بلکہ یہ سارے کام تیرے خدا 778