نُورِ ہدایت — Page 777
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یہاں جو ٹھٹھی اور تیل کی قسم کھائی اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدارج عالیہ اور مراتب محبت کا اظہار ہے اور آگے پیغمبر خدا کا ابراء کیا کہ دیکھو دن اور رات جو بنائے ہیں ان میں کس قدر وقفہ ایک دوسرے میں ڈال دیا ہے صیحی کا وقت بھی دیکھو اور تاریکی کا وقت بھی خیال کرو۔مَا وَذَعَكَ رَبُّكَ - خدا تعالیٰ نے تجھے رخصت نہیں کر دیا۔اس نے تجھ سے کینہ نہیں کیا بلکہ ہمارا یہ ایک قانون ہے جیسے رات اور دن کو بنایا ہے اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بھی ایک قانون ہے کہ بعض وقت وحی کو بند کر دیا جاتا ہے تا کہ ان میں دعاؤں کے لئے زیادہ جوش پیدا ہو۔اور ضحی اور تیل کو اس لئے بطور شاہد بیان فرمایا تا آپ کی امید وسیع ہو اور 66 تسلی اور اطمینان پیدا ہو۔“ (الحکم جلد 5 نمبر 21 مورخہ 10 جون 1901 ، صفحہ 4 واحکم جلد 5 نمبر 22 مورخہ 17 جون 1901 ، صفحہ 1) اوی کا لفظ زبان عرب میں ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے کہ جب کسی شخص کو کسی قدر مصیبت یا ابتلا کے بعد اپنی پناہ میں لیا جائے اور کثرتِ مصائب اور تلف ہونے سے بچایا جائے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ يَجِدُكَ يَتيما فاوی۔اسی طرح تمام قرآن شریف میں اوی اور آؤی کا لفظ ایسے ہی موقعوں پر استعمال ہوا ہے کہ جہاں کسی شخص یا کسی قوم کو کسی قدر تکالیف کے بعد پھر آرام دیا گیا۔( تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 9 حاشیہ) جو شخص قرآن کریم کی اسالیب کلام کو بخوبی جانتا ہے اس پر یہ پوشیدہ نہیں کہ بعض اوقات وہ کریم ورحیم جل شانہ اپنے خواص عباد کے لئے ایسا لفظ استعمال کر دیتا ہے کہ بظاہر بدنما ہوتا ہے مگر معناً نہایت محمود اور تعریف کا کلمہ ہوتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ نے اپنے نبی کریم کے حق میں فرمایا وَ وَجَدَكَ ضَالًا فَهَدَی اب ظاہر ہے کہ ضال کے معنے مشہور اور متعارف 777