نُورِ ہدایت — Page 779
تعالیٰ نے آپ ہی کر دئیے اور پیدا ہوتے ہی اس نے تجھ کو آپ سنبھال لیا۔سواس کا شکر بجالا اور حاجت مندوں سے تو بھی ایسا ہی معاملہ کر۔اب ان تمام آیات کا مقابلہ کر کے صاف طور پر کھلتا ہے کہ اس جگہ ضال کے معنے گمراہ نہیں ہے بلکہ انتہائی درجہ کے تعشق کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ حضرت یعقوب کی نسبت اسی کے مناسب یہ آیت ہے إِنَّكَ لَفِي ضَلَلِكَ الْقَدِيمِ (یوسف 96) سو یہ دونوں لفظ ظلم اور ضلالت اگر چہ ان معنوں پر بھی آتے ہیں کہ کوئی شخص جادہ اعتدال اور انصاف کو چھوڑ کر اپنے شہوات غضبیہ یا بہیمیہ کا تابع ہو جاوے۔لیکن قرآن کریم میں عشاق کے حق میں بھی آئے ہیں جو خدا تعالیٰ کے راہ میں عشق کی مستی میں اپنے نفس اور اس کے جذبات کو پیروں کے نیچے کچل دیتے ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 170 تا 173) قرآن شریف میں وَ اَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهرُ کا ارشاد آیا ہے کہ سائل کو مت جھڑک۔اس میں یہ کوئی صراحت نہیں کی گئی کہ فلاں قسم کے سائل کومت جھڑک اور فلاں قسم کے سائل کو جھڑک۔پس یاد رکھو کہ سائل کو نہ جھڑ کو کیونکہ اس سے ایک قسم کی بداخلاقی کا بیج بویا جاتا ہے۔اخلاق یہی چاہتا ہے کہ سائل پر جلدی ناراض نہ ہو۔یہ شیطان کی خواہش ہے کہ وہ اس طریق سے تم کو نیکی سے محروم رکھے اور بدی کا وارث بناوے۔الحکم جلد 4 نمبر 25 مورخہ 19 جولائی 1900 ، صفحہ 2) عجز و نیاز اور انکسار۔۔۔ضروری شرط عبودیت کی ہے لیکن بحکم آیت کریمہ و أما بِنِعْمَةِ ربك فحيث نعماء الہی کا اظہار بھی از بس ضروری ہے۔( مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 66) حمد انسان کو چاہئے کہ ہر وقت اور ہر حالت میں دعا کا طالب رہے اور دوسرے آئما بِنِعْمَةِ رَبَّكَ فَحَيّت پر عمل کرے۔خدا تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی تحدیث کرنی چاہئے۔اس سے خدا تعالیٰ کی محبت بڑھتی ہے اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے ایک جوش پیدا ہوتا ہے۔تحدیث کے یہی معنے نہیں ہیں کہ انسان صرف زبان سے ذکر کرتار ہے بلکہ جسم پر بھی 779