نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 708 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 708

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا اور کہا کہ آپ کی قوم قحط کی وجہ سے برباد ہوگئی آپ دعا کریں کہ اُن کی یہ حالت بدل جائے۔(بخاری کتاب تفسير القرآن تفسير سورة دخان) گویا جس طرح فرعون نے حضرت موسٹی کی طرف اپنے سفیر بھیجے تھے اسی طرح مکہ والوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا سفیر بھیجا اور درخواست کی کہ اس قحط کے دُور ہونے کے متعلق دعا فرمائی جائے۔چنانچہ آپ نے دعا کی اور اللہ نے اُس قحط کوڈ ور کر دیا۔تو غاشیہ سے مراد وہ عذاب دُخان بھی ہے جس کا ذکر سورۃ دُخان میں کیا گیا ہے۔اس دخان مبین کے عذاب کی مسیح موعود کے زمانہ کے لئے بھی پیشگوئی کی گئی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جو الہامات نازل ہوئے اُن میں ایک الہام یہ بھی ہے کہ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ وَتَرَى الْأَرْضَ يَوْمَئِذٍ خَامِدَةً مُّصْفَرَّةٌ ( تذکره صفحه 594) غرض علاوہ اور عذابوں کے جن کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کے الہامات میں اشارہ کیا گیا ہے قحط کے عذاب کی خبر بھی آپ کے الہامات میں موجود ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس زمانہ میں لوگوں پر شدید تنگی اور مصیبت کے سال آئیں گے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کے زمانہ میں علاوہ عام تحطوں کے جنگوں کی وجہ سے جو قحط پڑے ہیں وہ ایسے شدید ہیں کہ اُن کی مثال پہلے زمانوں میں نہیں ملتی۔هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ کے یہ معنے ہیں کہ کیا تمہیں معلوم ہے یا نہیں کہ غاشیہ کہلانے والی مصیبت بھی آنے والی ہے۔تھل چونکہ عام طور پر تصدیق ایجابی کے لئے آتا ہے اس لئے اس کے معنے یہ ہوں گے کہ کیا حدیث غاشیہ آپہنچی کہ نہیں۔یعنی آپہنچی ہے۔لیکن هل جب فعل سے پہلے آئے تو کبھی قد کے معنے بھی دیتا ہے۔اس لحاظ سے آیت یوں ہوگی قد آنكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ لواب مخالفتیں تیز ہونے والی ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب کی خبریں آرہی ہیں یا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تیری طرف حَدِيثُ الْغَاشِيَة بھیج دی۔دشمن اب شرارت میں بڑھنے والا ہے اس لئے ہم نے بھی عذاب کی خبریں دینی شروع کر 708