نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 585 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 585

یہ خیال کرو کہ یہ استویٰ کر رہی ہے یعنی وہ اپنے مقام پر ٹھہری رہے گی اور اس کا نقصان نہیں ہوگا تو یہ غلط فہمی ہے، اس کو دل سے نکال دو۔اسی طرح یہ خیال بھی دل سے نکال دو کہ بدی اگر تمہاری طاقت سے کمزور پڑ گئی ہے تو وہ دوبارہ سر نہیں اٹھا سکتی۔قانون قدرت ایسا ہے کہ ان دونوں کے درمیان ایک مجادلہ، ایک جہاد ہمیشہ سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا۔نہ تو حسن کو قرار ہے نہ بدصورتی کو قرار ہے۔نہ خوبی کو قرار ہے نہ بدی کو قرار ہے۔بیہ وہ مضمون ہے جو قرآن کریم بیان کرنا چاہتا ہے اور چونکہ جہاد کا مضمون چل رہا ہے اس لئے اس موز ونیت سے یہی مضمون ہونا چاہئے۔چنانچہ معا بعد صرف جہاد کی طرف لوٹتا ہے۔فرماتا ہے ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ اب تمہارا مقابلہ ہو گا۔جب تم دنیا کو نیک کاموں کی طرف بلاؤ گے تو تمہارا مقابلہ شروع ہو جائے گا۔یادرکھو یہ مقابلہ تمہارے لئے بہتر ہے۔تم جب تک جہاد میں مصروف رہو گے تمہارا حسن بھی بڑھتا چلا جائے گا اور مقابل کی بدیاں گھٹتی چلی جائیں گی۔جب تم جہاد سے غافل ہو جاؤ گے تو تمہارے اندرونی حسن کی بھی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی کیونکہ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ پھر قانون کیا ہوا۔فرما يلادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ جب بھی مقابلہ ہوتو یہ بات یادرکھنا کہ بدی کے مقابل پر صرف حسن پیش نہیں کرنا بلکہ بہترین حسن پیش کرنا ہے۔ایسا حسن کہ جس سے بہتر اور حسین تصور ممکن نہ ہو۔وہ بات نکالو جو بہترین ہو اور اس سے بدی کا مقابلہ کرو۔یہ جو احسن دلیل کے ساتھ مد مقابل سے مجادلہ کا سوال ہے یہ بھی دو طرح سے جاری ہوتا ہے کیونکہ قرآنِ کریم میں اس سے پہلے داعی الی اللہ کے متعلق فرمایا کہ وہ بلاتا بھی ہے اور نیک عمل بھی کرتا ہے۔پس ادفع بالتي هِيَ أَحْسَن کا اطلاق بلانے کی طرف بھی ہوگا اور نیک اعمال کی طرف بھی ہو گا۔گویا ان معنوں میں یہ بات بنے گی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ جب تمہارا دوسروں کے ساتھ قول میں مقابلہ ہو تو احسن قول سامنے پیش کرو، جب تمہارا اعمال میں مقابلہ ہو تو احسن عمل مقابل پر پیش کرو۔585