نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 584 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 584

سب سے پہلی بات جو تو جہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے وہ یہ ہے کہ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ میں لا کی تکرار کیوں ہے۔کیونکہ قرآن کریم میں دوسری جگہ جہاں بھی حسنہ اور سینه کا موازنہ کیا گیا ہے اور یہ کہنا مقصود ہے کہ بھلائی بدی کے برابر نہیں ہوسکتی اور بدی بھلائی کے برابر نہیں ہوسکتی وہاں ایک ہی لا“ نے دونوں کام کئے ہیں اور عربی قاعدہ کے مطابق موازنہ کے لئے دو دفعہ لا کی تکرار نہیں ہونی چاہئے۔جیسے ہم اردو میں کہتے ہیں کہ بدی اور بھلائی ہم پلہ یعنی برابر نہیں ہو سکتے۔ایک دفعہ ”نہیں“ کہتے ہیں۔یہ نہیں کہتے کہ نہ بدی برابر ہو سکتی ہے نہ بھلائی برابر ہوسکتی ہے۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کو اردو میں اس کا متبادل مضمون بیان کر کے واضح کیا ہے اور بتایا ہے کہ عربی میں اس طرح کی تکرار کا ترجمہ یہ بنے گا کہ نہ بدی برابر ہوسکتی ہے نہ بھلائی برابر ہوسکتی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس میں حکمت کیا ہے۔اس کی حکمت یہ ہے کہ یستوی تستومی کا محاورہ بعض دفعہ مقابلہ کے لئے آتا ہے۔بعض دفعہ بغیر مقابلہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔یہ محاورہ ایک جماعت کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور شخص واحد کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور اس میں مقابلہ یا موازنہ مقصود نہیں ہوتا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنے متعلق قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ (الاعراف 55) پھر وہ عرش پر استوئی پکڑ گیا۔اور بھی کئی جگہ انہی معنوں میں استویٰ یستوی کا استعمال ہوا ہے جن میں مقابلہ مقصود ہی نہیں اور اس کے معنی کچھ اور بن جاتے ہیں۔پس لا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ بھی اپنی ذات میں ایک مکمل اعلان ہے اور لَا تَسْتَوِی الشَّيْئَةُ بھی اپنی ذات میں ایک مکمل اعلان ہے جیسا کہ فرمایا وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ دراصل یہاں دو الگ الگ اعلان ہو رہے ہیں اس لئے یہاں عربی لغت کے مطابق استویٰ کا معنی یہ بنے گا کہ نہ تو نیکی کو قرار ہے نہ بدی کو قرار ہے۔دونوں اپنی ذات میں Stable یعنی مستحکم نہیں ہیں۔یہ بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہیں۔ان دونوں کے درمیان ہر وقت ایک مقابلہ جاری ہے۔مثلاً وہ نیکی جس کی تم حفاظت نہ کرو اور جس کو بڑھانے کی کوشش نہ کرو اس کے متعلق اگر تم 584