نُورِ ہدایت — Page 586
جہاں تک احسن قول کا تعلق ہے، پھر آگے اس کی شاخیں بنتی ہیں۔مثلاً اگر ایک دشمن گالیاں دیتا ہے، بدزبانی سے کام لیتا ہے تو اس موقع پر یہ آیت ی تعلیم دے رہی ہے کہ اس کے مقابل پر تم نے بدزبانی نہیں کرنی تم نے گندہ دہنی سے کام نہیں لینا کیونکہ اس لڑائی کے جو اسلوب مسلمان کو بتائے جارہے ہیں ان میں یہ بات داخل ہی نہیں کہ برائی کا بدلہ برائی سے دیا جائے۔مراد یہ ہے کہ اگر تم اس مقصد کو حاصل کرنا چاہتے ہو جو ان آیات کے آخر پر بیان ہوا ہے تو پھر تمہیں اس اسلوب جنگ کو اختیار کرنا پڑے گا۔جہاں تم اس کو چھوڑ دو گے تو پھر نتائج کے ذمہ دار تم ہو گے۔پھر نہ قرآن ذمہ دار ہے نہ وہ ذمہ دار ہے جس نے قرآن کریم کو نازل فرمایا۔پس احسن قول میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر قسم کی گندہ دہنی ، گالی گلوچ اور ایذا رسانی کے مقابل پر اچھی بات کہنا سیکھو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غلیظ گھٹا یا ہم نے ( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر 5 صفحہ 225) یہ ہے قول میں بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا ایک عملی نمونہ۔اس کا دوسرا پہلو مجادلہ سے تعلق رکھتا ہے۔جب دلائل کی جنگ شروع ہو تو پہلے کمز ور دلائل نہ نکالا کرو یا یوں ہی کوئی دلیل دینی نہ شروع کر دیا کرو بلکہ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کی رو سے تم اپنے ترکش سے سب سے اچھا تیر نکالو، سب سے مضبوط دلیل نکالا کرو اور یہ ایک بہت بڑی حکمت کی بات ہے۔بعض دفعہ لوگ کسی مضمون کے بارہ میں ایک سے زائد دلائل سیکھ جاتے ہیں اور پھر اس بات کا امتیاز کئے بغیر کہ وہ کس دلیل کو زیادہ عمدگی سے پیش کر سکتے ہیں ایک، دو، تین گنتی بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔اور یہ امر واقعہ ہے کہ ہر ہتھیار کو ہر شخص پوری مہارت سے استعمال نہیں کر سکتا۔اگر ہتھیار اچھا بھی ہو تب بھی اس کے استعمال کرنے کا ڈھنگ تو آنا چاہئے۔بعض قوموں نے ہتھیاروں میں بالا دستی کے باوجود بعض دفعہ عبرتناک شکستیں کھائی 586