نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 452 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 452

والے تھے۔بلکہ بوجہ نسیان یا بھول چوک جو انسانی فطرت کا حصہ ہے ہم اسے نہ کر سکے۔اس لئے ہمارے سے اگر کوئی بھول چوک ہوئی ہے تو ہمیں کہیں ان لوگوں میں شمار نہ کر لینا جو عادتاً یہ کرنے والے لوگ تھے۔اور پھر انتہائی عاجزی سے ایک مومن یہ دعا بھی کرتا ہے کہ اے خدا ہم سے اُن باتوں کا مواخذہ نہ کر جو ہم نے عمدا اور جان بوجھ کر نہیں کئے۔بلکہ سمجھ کی غلطی سے ہم سے وہ عمل سرزد ہو گئے اور ہم سے جو عہد لئے ہیں جو بوجھ ہم پر ڈالے ہیں ان کا حال بھی پہلی قوموں جیسا نہ ہو بلکہ ہمیں ہمارے عہدوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما۔ورنہ ہم بھی ان لوگوں کے زمرہ میں شامل ہو سکتے ہیں جو قابل مواخذہ ٹھہرے تھے۔اور پھر باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔لیکن ایک حقیقی مومن اور اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والے کا یہ کام ہے کہ اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کو اس کے اس قول کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعا کرے کہ کہیں میری شامت اعمال مجھے طاقت سے بڑھ کر کسی ابتلا اور بوجھ میں نہ ڈال دے۔اس لئے مجھ سے ہمیشہ درگزر کا سلوک فرما۔مجھے ہمیشہ اپنی بخشش کی چادر میں لپیٹ لے اور میں ہمیشہ تیرے رحم سے حصہ لیتا رہوں اور جس امام کو قبول کرنے کی مجھے توفیق عطا فرمائی ہے اس پر ہمیشہ قائم رہوں اور بڑھتا چلا جاؤں۔اور میری کمزوریاں میرے دشمن کو کبھی یہ موقع نہ دیں کہ وہ میرے ایمان کو ضائع کر سکے، یا میری وجہ سے میرے دین یا جماعت کو نقصان پہنچ سکے۔بعض دفعہ ایک فرد کی غلطی جماعت کو ابتلا میں ڈال سکتی ہے۔اس لئے ہم کہہ کر تمام مومنوں کو من حیث الجماعت ایک دوسرے کے لئے دعا کی طرف توجہ دلائی ہے تا کہ دعاؤں کا مجموعی اثر ہو اور ہر فرد کو بھی اپنے آپ کو پاک کرنے اور ذمہ داری کو سمجھنے کی طرف توجہ پیدا ہو اور جماعت بھی مضبوط بنیادوں پر استوار ہوتے ہوئے دشمن کے ہر شر سے محفوظ رہنے والی ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں تمام احکامات پر ہماری تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کو بجالانے کا حکم یقینا اللہ تعالیٰ نے ہماری صلاحیتوں اور استعدادوں کو دیکھتے ہوئے دیا ہے اور صرف ہم ایک جگہ کھڑے رہنے والے نہ ہوں بلکہ ہر قسم کی وسعتوں میں 452