نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 451 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 451

چل پڑا ہوں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اکتساب کا ایک یہ نکتہ بھی بیان فرمایا ہے کہ بدیوں میں صرف اُس بدی کی سزا ملے گی جس میں اکتساب کا رنگ ہو یعنی قصداً اور ارادةً اس کا ارتکاب کیا جائے۔( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 657 مطبوعہ ربوہ) اس کو نہ چھوڑے بلکہ جان بوجھ کر اس کو کرتا چلا جائے۔پس اللہ تعالیٰ نہ تو کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف میں ڈالتا ہے اور نہ کوئی ایسے احکامات دیتا ہے جو اس کو تکلیف میں ڈالنے والے ہوں بلکہ عفو اور در گزر اور بخشش سے کام لیتا ہے۔لیکن اگر کسی بدی کے ارتکاب پر انسان کو جرأت پیدا ہواور وہ کرتا ہی چلا جائے تو پھر اس کی سزا ہے۔اس لئے ہمارے پیارے اور مہر بان خدا نے اس آیت کے اگلے حصے میں ہمیں یہ دعا بھی سکھا دی کہ نیک کاموں کی طرف توجہ رہے جو ہر حال میں فطرت کے مطابق ہیں اور ان پر عمل کرنا انسان کی پہنچ کے اندر بھی ہے۔جیسا کہ فرمایا رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَالًا طَاقَةَ لَنَابِهِ۔وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِين کہ اے ہمارے رب اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں تو ہمیں سزا نہ دینا۔اے ہمارے رب! اور تو ہم پر اس طرح ذمہ داری نہ ڈالنا جس طرح تو نے ان لوگوں پر جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں ڈالی اور اے ہمارے رب ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کے اُٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔ہم سے درگزر کر ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر۔تو ہمارا آتا ہے۔پس کافروں کے خلاف ہماری مدد کر۔تزکیہ نفس کے لئے یہ دعائیں انتہائی ضروری ہیں۔کیونکہ جب تزکیہ نفس ہوگا تو لا یکلف اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کا صحیح ادراک بھی ہوگا۔انتہائی عاجزی سے انسان یہ دعا کرتا ہے کہ اے ہمارے خدا ان نیک باتوں کے نہ کرنے کی وجہ سے ہمیں نہ پکڑ جن کو ہم بھول گئے۔ان لوگوں کا انجام ہمیں نہ دینا جن پر تیری گرفت ہوئی تھی۔اب یہ ان کا انجام نہ دینا، اس لئے نہیں تھا کہ ہم بغاوت کرنے والے یا حد سے بڑھنے والے تھے یا تیرے حکموں کی پرواہ نہ کرنے 451