نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 453 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 453

خدا تعالیٰ اضافہ فرما تا چلا جائے اور من حیث الجماعت بھی ہم ترقی کی شاہراہوں پر تیزی سے منزلیں طے کرتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ ہماری دعا قبول فرمائے۔خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ، فرمودہ 29 مئی 2009ء) حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: سورۃ بقرۃ کی آخری آیت ہے جس کی میں نے تلاوت کی ہے جس میں ہمیں اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے کہ یہ دعا مانگو کہ ربَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا۔کہ اے ہمارے رب! ہمیں نہ پکڑا گر ہم بھول جائیں یا ہمارے سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے۔بھول جانے کے معنی ہیں کہ کوئی کام کرنا ضروری ہے لیکن نہ کیا جائے۔ایک تو یہ کہ جان بوجھ کر نہیں چھوڑا بلکہ بھول گئے۔دوسرے یہ کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ اگر اس کو نہ کیا اور وقت پر نہ کیا تو اس کی ہمارے لئے کتنی اہمیت ہے۔اور اس خیال میں رہیں کہ کوئی بات نہیں۔نہیں کیا تو کیا ہوا، معمولی سا کام ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی ہے کہ ہمیں بھولنے اور خطا کرنے سے بچا لیکن یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک اہم کام ہے، انسان کو تو علم نہیں کہ کونسا اہم ہے اور کونسا نہیں، اس کے نہ کرنے سے ہماری روحانی ترقی میں فرق آ سکتا ہے، ہمارے خدا تعالیٰ سے تعلق میں فرق آ سکتا ہے۔پس اے اللہ تو ہمیں ایک تو ایسی غلطیاں کرنے سے بچا۔دوسرے اگر غلطیاں ہو گئی ہیں تو اس پر پکڑ نہ کر۔اسی طرح کسی کام کے غلط طریق سے کرنے سے یا ایسا کام کرنے سے جو ہمیں نہیں کرنا چاہئے، ہمیں پکڑ میں نہ لے۔ہمارا مؤاخذہ نہ کر۔بلکہ ہماری خطاؤں کو معاف فرما اور معاف فرماتے ہوئے اُن کے بداثرات سے اور اپنی ناراضگی سے ہمیں بچالے لیکن اگر ہم جان بوجھ کر ایک غلط کام کرتے جائیں یا غلط طریق پر کرتے چلے جائیں۔اپنی اصلاح کی طرف کوشش نہ کریں اور پھر یہ دعا بھی مانگتے ہیں تو پھر یہ دعا نہیں ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ اور دعا کے ساتھ ایک مذاق بن جائے گا۔پس دعائیں بہتر نتائج کے لئے ہوتی ہیں نہ کہ خدا تعالیٰ کو آزمانے کے لئے۔اس لئے جہاں اپنے عمل ہوں گے وہیں دعا بھی حقیقی دعا بنے گی۔اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ 453