نُورِ ہدایت — Page 444
مکلف نہیں بنا تا اس لئے وہ شخص قابل مواخذہ نہیں ہوگا جس پر اتمام حجت نہیں ہوا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں فرماتے ہیں کہ جس پر خدا تعالیٰ کے نزدیک۔۔۔۔۔۔اتمام حجت ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مؤاخذہ کے لائق ہوگا اور جس پر خدا تعالیٰ کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گوشریعت نے ( جس کی بنا ظاہر پر ہے ) اس کا نام بھی کا فر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اس کو باتباع شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا قابل مواخذہ نہیں ہوگا۔ہاں ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم اس کی نسبت نجات کا حکم دیں۔اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ہمیں اس میں دخل نہیں۔“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود عالسلام - سورة البقرة آيت 287 - جلد اول صفحہ 775) یہاں یہ بھی یادر ہے کہ ان الفاظ کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ : ” علم محض خدا تعالیٰ کو ہے کہ اس کے نزدیک باوجود دلائل عقلیہ ،نقلیہ اور عمدہ تعلیم اور آسمانی نشانوں کے کس پر ابھی تک اتمام حجت نہیں ہوا۔۔۔ہمیں کسی کے باطن کا علم نہیں ہے اور چونکہ ہر ایک پہلو کے دلائل پیش کرنے اور نشانوں کے دکھلانے سے خدا تعالیٰ کے ہر ایک رسول کا یہی ارادہ رہا ہے کہ وہ اپنی حجت لوگوں پر پوری کرے اور اس بارے میں خدا بھی اس کا مؤید رہا ہے اس لئے جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مجھ پر حجت پوری نہیں ہوئی وہ اپنے انکار کا ذمہ وار آپ ہے اور اس بات کا بار ثبوت اُسی کی گردن پر ہے اور وہی اس بات کا جوابدہ ہو گا کہ باوجود دلائل عقلیہ اور نقلیہ اور عمدہ تعلیم اور آسمانی نشانوں اور ہر ایک قسم کی راہنمائی کے، کیوں اس پر حجت پوری نہیں ہوئی۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحه 186 تا 187 ) پس گو بغیر اتمام حجت کے خدا تعالیٰ نے کسی کو مکلف نہیں بنایا لیکن مخالفین اسلام اور احمدیت کو یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ان کے نفس کے دھو کے انہیں یہ بات کہنے پر مجبور تو نہیں کر رہے کہ ہم پر کوئی اتمام حجت نہیں ہوئی۔دنیا میں ہر طرف فساد اور آفات، وہ 444