نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 443 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 443

ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَد كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (سورة الاحزاب (22) یقیناً تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے رسول میں اُسوہ حسنہ ہے۔فرمایا کہ ہمیں حکم ہے کہ تمام احکام میں، اخلاق میں ، عبادات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں۔پس اگر ہماری فطرت کو وہ قوتیں نہ دی جاتیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر سکتیں تو یہ حکم ہمیں ہر گز نہ ہوتا کہ اس بزرگ نبی کی پیروی کرو۔کیونکہ خدا تعالی فوق الطاقت کوئی تکلیف نہیں دیتا۔جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 156 ) پس یہاں یہ فرمایا کہ تم اس نبی کی پیروی کرو۔جس کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس لفظ سے کی کہ ظلی طور پر یعنی وہ معیار جو تم حاصل نہیں کر سکتے لیکن اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ان پر عمل کرنے اور ان کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئے کوشش کرو اور یہ ہر مومن پر فرض ہے۔کیونکہ یہ صلاحیت ایک مومن میں اللہ تعالی نے رکھی ہے کہ ان نیکیوں کو بجالائے جن کا اُسوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا ہے۔صرف یہ کہنا کہ کیونکہ وہ معیار میں حاصل نہیں کر سکتا، اس لئے کوشش کی بھی ضرورت نہیں ہے، یہ بات ایک مومن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرائض سے آزاد نہیں کر دیتی اور جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ اُمت میں کروڑوں لوگوں نے یہ نمونے قائم کرنے کی کوشش کی ہے اور کر کے دکھایا ہے کہ ایک عام مومن بھی اس اسوہ حسنہ کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا اپنی استعدادوں کے مطابق قائم کر سکتا ہے، بجالا سکتا ہے، اس پر عمل کرسکتا ہے۔پھر چوتھی بات اس حوالہ سے یہ ہے کہ گو اللہ تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانیت کے لئے مبعوث فرمایا ہے اور جو تعلیم وہ لائے اسے قبول کرنے کا ہر ایک کو حکم ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ہی نجات کا بھی باعث ہے۔لیکن اگر کسی پر اتمام حجت نہیں ہوا تو اللہ تعالی کیونکہ کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر کسی بات کا 443