نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 445 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 445

نشانات تو نہیں ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اتمام حجت کے طور پر ہیں۔جبکہ زمانہ کے امام کا دعویٰ بھی موجود ہے۔پھر پانچویں بات اس ضمن میں یہ ہے کہ اللہ تعالی خلاف عقل باتوں کو ماننے پر کسی کو مجبور نہیں کرتا اور اس وجہ سے اسے مکلف نہیں ٹھہراتا کہ کیوں یہ باتیں نہیں مانیں۔قرآن کریم میں بے شمار جگہ حکیم کا لفظ آیا ہے۔ہر بات جو ہے حکمت سے پُر ہے۔اس کی حکمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اس کو بجالانے کا حکم دیتا ہے۔جو بھی حکم اتارا ہے تمام تر حکمتوں کے بیان سے اتارا ہے۔بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مبعوث فرمایا اور جن کاموں کو آپ کے لئے خاص کیا ان میں حکمت پھیلانا بھی ایک کام تھا۔بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جو آئندہ آنے والے کے مقام کے بارہ میں دعا سکھائی گئی اُس میں بھی حکمت کو خاص طور پر پیش نظر رکھا گیا۔حکمت کیا ہے؟ عدل و انصاف کو جاری کرنا ہے۔اس کا مطلب علم کو کامل کرنا ہے۔اس کا مطلب ہر بات کی دلیل پیش کرنا ہے یعنی جب کوئی حکم دیا تو اس کے کرنے یا نہ کرنے کی وجوہات بتائیں اور یہی عقل کا تقاضا ہے۔مثلاً شراب اور جوئے سے اگر روکا ہے تو روکنے کے حکم کے ساتھ فرمایا کہ يَسْئَلُونَكَ عَنِ الْخَيْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا اثْمَّ كَبِيرُ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا (البقرة 220) کہ وہ تجھ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں۔تو کہہ دے کہ ان کاموں میں بڑا گناہ ہے اور نقصان ہے اور اس میں لوگوں کے لئے بعض منفعتیں بھی ہیں اور ان کا گناہ اور نقصان ان کے نفع سے بہت بڑا ہے۔اب شراب پینے سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ جہاں وہ انسان کو نشہ کی حالت میں لا کر عبادتوں سے روکتا ہے وہاں معاشرے کے امن کو بھی خراب کرتا ہے۔اور پھر یہ بھی اب ثابت شدہ حقیقت ہے کہ شراب پینے والے کے جب وہ شراب کا ایک جام چڑھاتا ہے تو دماغ کے ہزاروں خلیے متاثر ہوتے ہیں۔اس لئے شراب پینے سے اس دلیل کے ساتھ منع کیا گیا ہے اور یہی حال نجوا کھیلنے والوں کا ہے۔نجوا کھیلنے والا اتنا زیادہ ایڈ کٹ (adict) ہو جاتا 445