نُورِ ہدایت — Page 347
* الْعُرْوَةُ مِنَ الدَّلْوِ وَالْكُوزِ الْمِقْبَضُ الَى أَذْنُهُما۔یعنی عروہ ڈول یا لوٹے کے دستہ کو کہتے ہیں جس سے اسے پکڑا جاتا ہے۔اسی طرح عُروہ کے معنے مایو تقی بہ کے بھی ہیں۔یعنی ایسی چیز جس پر اعتبار کیا جائے۔گویا ہر ایسی چیز جس پر سہارا لیا جائے یا جس پر اعتماد کیا جاسکے وہ مروہ کہلاتی ہے۔اسی طرح عروہ اس چیز کو بھی کہتے ہیں جو کبھی ضائع نہ ہونے والی ہو۔چنانچہ محر وہ اس گھاس کو کہتے ہیں جو ہمیشہ ہر ار ہے اور غمروہ کے معنے النَّفِيسُ مِنَ الْمَالِ کے بھی ہیں۔یعنی اچھا اور بہترین مال۔یہ عجیب بات ہے کہ اسلام پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ جبر سے دین پھیلانے کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اسلام اگر ایک طرف جہاد کے لئے مسلمانوں کو تیار کرتا ہے جیسا کہ اس سورۃ میں وہ فرما چکا ہے کہ قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ الَّذِينَ يُقْتِلُونَكُمْ (البقرة 191) یعنی تم اللہ تعالی کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں۔تو دوسری طرف وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ لا اخر الا فی الدین۔یعنی جنگ کا جو حکم تمہیں دیا گیا ہے اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ لوگوں کو مسلمان بنانے کے لئے جبر کرنا جائز ہو گیا ہے۔بلکہ جنگ کا یہ حکم محض دشمن کے شر سے بچنے اور اس کے مفاسد کو دور کرنے کے لئے دیا گیا ہے۔اگر اسلام میں جبر جائز ہوتا تو یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ قرآن کریم ایک طرف تو مسلمانوں کولڑائی کا حکم دیتا اور دوسری طرف اسی سورۃ میں یہ فرما دیتا کہ دین کے لئے جبر نہ کرو۔کیا اس کا واضح الفاظ میں یہ مطلب نہیں کہ اسلام دین کے معاملہ میں دوسروں پر جبر کرنا کسی صورت میں بھی جائز قرار نہیں دیتا۔پس یہ آیت دین کے معاملہ میں ہر قسم کے جبر کو نہ صرف ناجائز قرار دیتی ہے بلکہ جس مقام پر یہ آیت واقع ہے اس سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام جبر کے بالکل خلاف ہے۔قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَي۔یہ جملہ مستأنفہ ہے یعنی اس سے پہلے ایک جملہ مقدر ہے جس کا یہ جواب دیا گیا ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ دین کے لئے جبر جائز نہیں۔اس لئے سوال پیدا ہوتا تھا کہ جب دین ایک اعلیٰ درجہ کی چیز ہے تو کیوں اس کے لئے لوگوں 347