نُورِ ہدایت — Page 348
پر جبر نہ کیا جائے۔اور انہیں بزور اس نعمت سے متمتع نہ کیا جائے۔اللہ تعالیٰ اس سوال کے جواب میں فرماتا ہے جب گمراہی اور ہدایت ظاہر ہوگئی ہے تو اب جبر کی ضرورت نہیں۔صرف ہدایت کا پیش کر دینا تمہارا کام ہے۔کیونکہ جو حق بات تھی وہ گمراہی اور ضلالت کے بالمقابل پورے طور پر ظاہر ہوگئی ہے۔غرض اس آیت میں خدا تعالیٰ نے وجہ بیان فرمائی ہے کہ کیوں اسلام کو جبر کی ضرورت نہیں۔فرماتا ہے۔جبر اس وقت ہوتا ہے جب کوئی بات دلیل سے ثابت نہ ہو سکے۔یا جس کو سمجھایا جائے وہ سمجھنے کے قابل نہ ہو۔مثلاً ایک بچہ کی عقل چونکہ کمزور ہوتی ہے۔اس لئے بسا اوقات اس کی مرضی کے خلاف اور جبر کرنے والے کی مرضی کے موافق کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔لیکن اس بچہ میں جب عقل آجاتی ہے تو پھر وہ اپنے آپ ہی سمجھ جاتا ہے اور اپنے نفع اور نقصان کو سوچ سکتا ہے۔اس حالت میں اس پر کوئی جبر نہیں کرتا۔اسلام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس میں ہر قسم کے دلائل کو کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔اس لئے اسے منوانے کے لئے کسی پر جبر کرنے کی ضرورت نہیں۔اسلام صرف ان لوگوں سے دینی جنگ کرنے کا حکم دیتا ہے جو دین کے نام سے مسلمانوں سے جنگ کریں اور مسلمانوں کو جبراً اسلام سے پھیر نا چاہیں۔اور ان کے متعلق بھی یہ حکم دیتا ہے کہ زیادتی نہ کرو بلکہ اگر وہ باز آجائیں تو تم بھی اس قسم کی لڑائی کو چھوڑ دو۔تو پھر یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کا حکم ہے کہ غیر مذاہب والوں سے اپنے مذہب کی اشاعت کے لئے جنگ کرو۔اللہ تعالیٰ تو مختلف مذہبوں کے مٹانے کے لئے نہیں بلکہ مختلف مذاہب کی حفاظت کے لئے جنگ کرنے کا حکم دیتا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا أَنْ يَقُو لُوا رَبُّنَا اللهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوتُ وَمَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزُ (الحج 40-41) یعنی 348