نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 346 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 346

دوسرے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کاموں کو بھی جانتا ہے جو وہ کر رہے ہیں اور ان کاموں کو بھی جانتا ہے جو انہیں کرنے چاہیے تھے۔لیکن انہوں نے ترک کر دئیے۔* لَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا مَا شَاءَء میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے - کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں اتنی غیر محدود ہیں کہ انہیں گلی طور پر طے کرنے کا کوئی انسان خیال بھی نہیں کر سکتا۔جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کے قرب میں بڑھتا ہے اور وہ اپنے مقام کے مطابق اس کے انوار و برکات کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس پر اپنی دوسری تجلی ظاہر کرتا ہے اور جب وہ دوسری تجلی کی بھی برداشت کر لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ اب یہ تیسری تجلی کے قابل ہو گیا ہے تو اس پر اپنی تیسری تجلی ظاہر کرتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔الكرسى : کیسی سے نکلا ہے جس کے معنے متفرق اجزاء کے اکٹھا ہونے کے ہوتے ہیں۔کہتے ہیں گوشت بنا۔میں نے عمارت بنائی یعنی اینٹوں پر اینٹیں رکھیں۔اور کرسی علم کو بھی کہتے ہیں اور حکومت کو بھی (مفردات ) اس لفظ کی اصل سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل میں اس کے معنے جمع کرنے اور اکٹھا کرنے کے ہیں۔اور چونکہ علم بھی پراگندہ اجزاء کو جمع کر لیتی ہے اس لئے اسے بھی کرسی کہتے ہیں۔* وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ اللہ تعالیٰ کا علم آسمان اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔یعنی اسے ہر چیز کا انتہائی علم ہے۔اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کے علم سے باہر ہو۔انسانی علم بالکل محدود ہوتا ہے۔وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ میں سائنس کے اس عظیم الشان نکتہ کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ کائنات عالم کی لمبائی کا اندازہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔علی میں اس کی رفعت اور بلندی کی طرف اور عظیم میں اس کی طاقتوں کی وسعت کی طرف اشارہ کیا ہے۔یہ وہ خدا ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔346