نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 274 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 274

پہلے رکوع کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ سب سے پہلا رکوع ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے نزول اور رسول الله علی ایم کی بعثت کی غرض بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ کتاب انسان کو متقی بنا کر اعلیٰ سے اعلی درجہ تک پہنچاتی ہے اور ان دینی و دنیوی ترقیات کی راہ دکھاتی ہے جن پر ایک انسان پہنچ سکتا ہے۔چونکہ ہر قوم کے نقطہ خیال سے متقی کی جدا تعریف ہے، ہندؤں کے نزدیک متقی اور ہے یہود کے نزدیک اور عیسائیوں کے نزدیک اور۔اس لئے اب بتانا ہے کہ ہمارے نزدیک متقی کون ہے۔دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ایک وہ جن کا ظاہر و باطن یکساں ہے جو خیالات ان کے جی میں ہیں اس کے مطابق ان کا عمل ہے۔دوسرے وہ جن کا اندر کچھ ہے اور باہر کچھ، ظاہر کچھ باطن کچھ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ متقی وہ ہے کہ ہم خواہ کتنے ہی غیب میں ہوں ہم پر اس کا ایمان کامل رہتا ہے اور پھر اور جو چیزیں غیب میں ہیں ، ان پر ایمان لاتا ہے۔اس کے دل میں کھوٹ نہیں ہوتا۔پھر وہ نمازوں کو قائم کرتا ہے۔یہ تو اپنے خالق سے تعلقات کی نسبت فرمایا۔دوسرا تعلق مخلوق سے ہے۔سو اس کے لئے ارشاد ہوتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے اس کو دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتا رہتا ہے۔جس شخص کے مخلوق سے تعلقات عمدہ نہیں اس کے تعلقات اپنے خالق سے بھی اچھے نہیں رہ سکتے ، اس لئے قرآن مجید نے دونوں طرفوں کو لیا ہے۔جو بڑی لمبی لمبی نمازیں پڑھتا ہے اور خدا کی مخلوق سے بد معاملگی کرتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص اپنے حاکم کے سامنے نہایت مؤ ڈب کھڑا ہو مگر جب وہ اپنے حاکم کے سامنے سے ہے تو اپنے ماتحتوں پر ظلم کرنا شروع کر دے۔یہ شرفاء کا کام نہیں۔خدا نے اپنی مخلوق پر شفقت کرنے کو بھی عبادت فرمایا ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ میں ننگا تھا تم نے مجھے کپڑا نہ پہنایا، بھوکا تھا مجھے کھانا نہ کھلایا، پیاسا تھا مجھے پانی نہیں پلایا، بیمار تھا میری بیمار پرسی نہیں کی۔وہ بندے عرض کریں گے کہ یہ آپ کی شان کہاں ہے۔اللہ تعالیٰ 274