نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 275 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 275

فرمائے گا میری مخلوق میں سے چھوٹے سے چھوٹے سے بیمار یا بھوکے پیاسے کے ساتھ ہمدردی کرنا گویا میرے ساتھ ہمدردی کرنا ہے۔خدا نے اپنی بخشی ہوئی نعمتوں کی کوئی حد بندی نہیں کی جو کچھ بھی کسی کو خدا نے دیا ہے چاہئے کہ اس میں سے کچھ اس دینے والے کے نام پر خرچ کرے۔اگر علم دیا ہے تو علم میں سے۔مال دیا ہے تو مال میں سے۔اس صفت سے متصف انسان دوسروں کے حقوق تلف نہیں کرتا کیونکہ جو اپنے پاس سے بھی کچھ دینے کی عادت رکھتا ہو وہ کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی کے مال پر بیجا تصرف کرے۔غرض منتقی کے خالق اور مخلوق دونوں سے تعلقات نہایت عمدہ ہوتے ہیں وہ اپنے اندر فرمانبرداری کی روح رکھتا ہے۔نہ صرف قرآن مجید پر ہی ایمان رکھتا ہے بلکہ اس سے پہلے جو کتابیں آئیں ان پر بھی ایمان لاتا ہے اور قرآن مجید کے بعد جو وحی نازل ہو اس پر بھی ایمان لانے کو تیار ہے۔اس کا اپنا کوئی نفس باقی نہیں رہتا ، وہ ہر حالت میں خدا کی رضا جوئی کا آرزو مند رہتا ہے۔ایسے لوگوں کی نسبت فرماتا ہے کہ یہ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور جو ہدایت پر چلیں گے وہی کامیاب اور منصور ہوں گے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف ہاتھ میں ہاتھ دینے سے نجات ہو جاتی ہے مگر ایسا ہر گز نہیں۔عمل کی ضرورت ہے جو خدا کے فضلوں کا جاذب ہے۔اللہ کا یہ احسان کیا کم ہے کہ اس نے ہماری ہدایت کے لئے ایسی روشن کتاب عطا فرمائی۔اس احسان کے شکریہ میں تو اور بھی اس کافرمانبردار بننا چاہیئے، نہ یہ کہ الٹا خدایا اس کے فرستادہ پر احسان رکھیں کہ ہم ایمان لائے۔اگر کوئی شخص رستہ سے بھٹک گیا ہو اور دوسرا اسے سیدھے راستہ پر چلا دے تو اب یہ اور اس راستہ پر چل کر راہنما پر احسان نہیں جتا سکتا کہ دیکھ میں تیرے بتائے ہوئے رستہ پر چل رہا ہوں بلکہ اسے ممنون ہونا چاہئے کہ مجھ بھولے ہوئے کو رستہ دکھایا۔خطبات محمود سال 1914 صفحہ 26 تا 28) حضرت خلیفہ المسح الثانی نے خطبہ جمعہ فرمودہ 6 فروری 1914ء میں سورہ بقرہ کے پہلے رکوع کی آخری دو آیات إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرُهُمْ 275