نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 243 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 243

حصہ دے دیا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ محض قلت تدبر کا نتیجہ ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ بعض لوگ خرچ کرنے والے ہیں اور بعض دوسروں کی امداد پر گزارہ کرتے ہیں کیونکہ درحقیقت سب ہی لوگ ایک دوسرے پر خرچ کرنے والے ہیں۔اس جگہ ایک اور نکتہ بھی یادرکھنے کے قابل ہے اور وہ یہ ہے کہ اقامة الصلوۃ کو اس جگہ پہلے رکھا گیا ہے اور مما رَزَقُهُمْ يُنْفِقُونَ کو بعد میں رکھا گیا ہے۔اس سے اس طرف اشارہ ہے کہ رُوحانی عالم میں خدا تعالیٰ سے تعلق مخلوق سے تعلق پر مقدم ہے اور یہی طبعی اور درست ترتیب ہے۔کیونکہ بغیر اللہ تعالیٰ سے کامل تعلق کے مخلوق سے کامل محبت ہو ہی نہیں سکتی۔وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ اس آیت میں متقیوں کی تین اور صفات بیان کی گئی ہیں اور اس آیت کی پہلی اور گزشتہ آیت کو ملا کر چوتھی علامت متقی کی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بیان فرمائی ہے کہ جو کلام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے متقی اس پر ایمان لاتے ہیں۔چونکہ روحانی عالم میں صحیح طریق عمل وہی ہے کہ جو خدا تعالی کی طرف سے بتایا جائے اس لئے وہی شخص نیک نیت کہلائے گا کہ جو اس طریق کو معلوم کرنے اور پھر اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔اور چونکہ قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد وہی صحیح طریق عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ پر ظاہر کیا ہے۔اس لئے وہی شخص روحانی مقاصد کو پا سکتا ہے جو آپ پر نازل ہونے والے کلام پر ایمان لائے۔پس چوتھی صفت متقی کی یہ بیان کی گئی کہ وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے کلام پر ایمان لاتا ہو۔کیونکہ جو شخص اس کلام پر ایمان نہیں لاتا جو اس کے زمانہ کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہو وہ ہدایت کی جزئیات سے نہ باخبر ہوسکتا ہے اور نہ اُن پر عمل کر سکتا ہے۔243