نُورِ ہدایت — Page 244
بعض لوگ اس آیت اور ایسی ہی بعض دوسری آیات سے یہ دھوکا کھاتے ہیں کہ قرآن کریم پر ایمان لانے کا حکم ہے نہ کہ محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم پر۔اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات کو تسلیم کرنے کی نہ ضرورت ہے نہ یہ جائز ہے بلکہ شرک ہے۔ان لوگوں کو یہ دھو کا قرآن کریم کے مضامین پر غور نہ کرنے سے لگا ہے۔اس جگہ ایک اور مضمون بھی وضاحت طلب ہے اور وہ کلام کے اتارنے کا محاورہ ہے۔عام طور پر جب اسلامی تعلیم سے ناواقف لوگ کلام الہی کے اترنے کا محاورہ قرآن کریم میں پڑھتے ہیں تو خیال کر لیتے ہیں کہ شائد یہ کلام خدا تعالیٰ نے لکھ کر فرشتوں کو دیا اور وہ اسے آسمان پر سے زمین پر لائے اور رسول کے ہاتھ میں دے دیا۔بلکہ غیر مذہب والوں کو کیا کہنا ہے خود مسلمانوں میں سے ایک بڑا طبقہ تعلیم اسلام سے ناواقفی کی وجہ سے اب یہی سمجھنے لگ گیا ہے کہ شائد کوئی چیز آسمان پر سے زمین پر مادی طور پر اترتی ہے اور رسول کو ملتی ہے۔لیکن یہ عقیدہ کئی غلطیوں کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے (1) ان لوگوں نے غور نہیں کیا کہ آسمان سے کیا مراد ہے؟ (2) انہوں نے غور نہیں کیا کہ فرشتے کیا ہیں اور ان کے اعمال کس طرح ظاہر ہوتے ہیں؟ ( 3) انہوں نے یہ غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کس ذریعہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں؟ ( 4 ) انہوں نے غور نہیں کیا کہ نزول کے کیا معنے ہیں؟ ان چار امور پر غور نہ کرنے کے سبب سے ان کو مذکورہ بالا غلط عقیدہ میں مبتلا ہونا پڑا ہے۔وَمَا أُنْزِلَ مِن قَبْلِكَ۔پہلی آیت کو شامل کر کے پانچویں اور اس آیت میں بیان کردہ دوسری علامت متقیوں کی یہ بتائی کہ وہ ان وحیوں پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آ نحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے پہلے نازل ہو چکی ہیں۔(1) قرآن کریم میں پہلے کلاموں پر ایمان کو بعد میں رکھا گیا ہے۔پہلی وحی کا بعد میں ذکر کرنا بتاتا ہے کہ اس پر ایمان قرآن کریم کے توسط سے ہے۔یعنی اس کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق۔244