نُورِ ہدایت — Page 242
تو اس کا جواب یہ ہے کہ علم اور فہم اور عقل خرچ کرنے سے بڑھتے ہیں۔پس ان میں سے کچھ خرچ کرنے کے یہ معنی ہیں کہ اس طرح علم سے لوگوں کو فائدہ نہ پہنچائے یا نہم سے یا عقل سے کہ ان کے بڑھنے کا منبع خراب ہو جائے۔مثلاً یہ ہلاک ہو جائے یا اس کی صحت ایسی طرح بگڑ جائے کہ اس کا علم یا فہم یا عقل کام دینے سے رُک جائیں۔مثلاً دماغ خراب ہو جائے۔غرض علم اور فہم اور عقل کا بھی اسی قدر استعمال ہونا چاہئے کہ ان کا چشمہ نہ سوکھ جائے۔کیونکہ جو شخص اپنے علم اور عقل سے لوگوں کو اس طرح فائدہ پہنچاتا ہے یا اپنے آپ کو اس طرح فائدہ پہنچاتا ہے کہ ان کے منبع میں خرابی واقع ہو جاتی ہے وہ اس آیت کے حکم کے خلاف عمل کرتا ہے۔م اگر کہا جائے کہ کیا سارا مال خدا کی راہ میں خرچ کرنے والا گنہگار ہوگا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح علم اور فہم اور عقل کا منبع ہوتا ہے اور وہ اس کا راس المال ہوتا ہے اسی طرح مال کا بھی ایک منبع ہوتا ہے۔پس سارا مال خرچ کرنے سے یہی مراد ہوگی کہ وہ اس منبع تک کو خرچ نہ کر دے۔ما رَزَقُهُمْ يُنْفِقُونَ سے یہ بھی استدلال ہوتا ہے کہ انسان کو حلال اشیاء خرچ کرنی چاہئیں۔یہ نیکی نہیں کہ حرام مال یا حرام اشیاء خرچ کرے۔بعض لوگ رشوتیں لے کر اور بعض ڈاکے ڈال کر مال جمع کرتے ہیں اور غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ نیکی کرتے ہیں۔حالانکہ بدی سے بدی پیدا ہو سکتی ہے، نیکی نہیں۔ایسے لوگ بدیوں کی بنیادر کھتے ہیں۔ان کا صرف اس قدر کام تھا کہ جو خدا تعالیٰ نے ان کو دیا تھا اس میں سے خرچ کرتے۔اگر کوئی شخص دوسرے کے مال سے جس پر اس کا حق نہیں دوسرے کو کچھ دے دیتا ہے وہ اس حکم کا پورا کرنے والا نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ وہ اُس رزق میں سے خرچ نہیں کرتا جو خدا تعالیٰ نے اسے دیا تھا بلکہ اس میں سے خرچ کرتا ہے جو خدا تعالیٰ نے اسے نہیں دیا تھا۔اور یہ آیت کہتی ہے کہ جو ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔شاید کوئی اعتراض کرے کہ خدا تعالیٰ کو اس کی کیا ضرورت پیش آئی کہ بندوں کی وساطت سے دوسروں پر خرچ کروائے ؟ کیوں نہ اس نے سب انسانوں کو براہ راست ان کا 242