نُورِ ہدایت — Page 166
لائے گا بغیر اس کے نہیں۔پس کس قدر گمراہ وہ لوگ ہیں جو بغیر متابعت قرآن شریف اور رسول کریم کے صرف خشک تو حید کو موجب نجات ٹھہراتے ہیں بلکہ مشاہدہ ثابت کر رہا ہے کہ ایسے لوگ نہ خدا پر سچا ایمان رکھتے ہیں نہ دنیا کے لالچوں اور خواہشوں سے پاک ہو سکتے ہیں چہ جائیکہ وہ کسی کمال تک ترقی کریں اور یہ بات بھی بالکل غلط اور کورانہ خیال ہے کہ انسان خود بخود نعمت توحید حاصل کر سکتا ہے بلکہ تو حید خدا کی کلام کے ذریعہ سے ملتی ہے اور اپنی طرف سے جو کچھ سمجھتا ہے وہ شرک سے خالی نہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لانے کے بارے میں انسانی کوشش صرف اس حد تک ہے کہ انسان تقویٰ اختیار کر کے اس کی کتاب پر ایمان لاوے اور صبر سے اُس کی پیروی کرے اس سے زیادہ انسان میں طاقت نہیں لیکن خدا تعالی نے آیت هُدًى لِلْمُتَّقین میں یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اگر اس کی کتاب اور رسول پر کوئی ایمان لائے گا تو وہ مزید ہدایت کا مستحق ہوگا اور خدا اس کی آنکھ کھولے گا اور اپنے مکالمات و مخاطبات سے مشرف کرے گا اور بڑے بڑے نشان اُس کو دکھائے گا۔یہاں تک کہ وہ اسی دنیا میں اُس کو دیکھ لے گا کہ اس کا خدا موجود ہے اور پوری تسلی پائے گا۔خدا کا کلام کہتا ہے کہ اگر تو میرے پر کامل ایمان لاوے تو میں تیرے پر بھی نازل ہوں گا۔اسی بنا پر حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اِس اخلاص اور محبت اور شوق سے خدا کے کلام کو پڑھا کہ وہ الہامی رنگ میں میری زبان پر بھی جاری ہو گیا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحه 135 تا 141) ہر شے کی چار علتیں ہوتی ہیں یہاں بھی ان علل اربعہ کو بیان کیا ہے اور وہ علیل اربعہ یہ ہوتی ہیں علت فاعلی۔عِلتِ صوری۔عِلتِ مادی۔عِلتِ غائی۔اس مقام پر قرآن شریف کی چار علتوں کا ذکر کیا۔علت فاعلی تو اس کتاب کی اللہ ہے اور الٹر کے معنے میرے نزدیک انا الله اعلم یعنی میں اللہ وہ ہوں جو سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔اور علت مادى ذلك الكتب ہے یعنی یہ 166