نُورِ ہدایت — Page 167
کتاب اس خدا کی طرف سے آئی ہے جو سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔اور علتِ صوری لا رَيْبَ فِیهِ ہے یعنی اس کتاب کی خوبی اور کمال یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کا شک و شبہ ہی نہیں جو بات ہے مستحکم اور جو دعویٰ ہے وہ مدلل اور روشن اور علتِ غائی اس کتاب کی ھدی للْمُتَّقِينَ ہے یعنی اس کتاب کے نزول کی غرض و غایت یہ ہے کہ متقیوں کو ہدایت کرتی ہے۔یہ چاروں علتیں بیان کرنے کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے عام صفات بتائے ہیں کہ وہ مشقی کون ہوتے ہیں جو ہدایت پاتے ہیں الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَهِمَا رَزَقُتُهُمْ يُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ یعنی وہ متقی ہوتے ہیں جو خدا پر جو ہنوز پردہ غیب میں ہوتا ہے ایمان لاتے ہیں اور نماز کو کھڑا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور وہ ایمان لاتے ہیں اس کتاب پر جو تجھ پر نازل کی ہے اور جو کچھ تجھ سے پہلے نازل ہوا اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔یہ صفات متقی کے بیان فرمائے۔اب یہاں بالطبع ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کتاب کی غرض و غایت تو یہ بتائی هدًى لِّلْمُتَّقِينَ اور پھر متقیوں کے صفات بھی وہ بیان کئے جوسب کے سب ایک باخدا انسان میں ہوتے ہیں یعنی خدا پر ایمان لاتا ہو، نماز پڑھتا ہو، صدقہ دیتا ہو، کتاب اللہ کو مانتا ہو، قیامت پر یقین رکھتا ہو پھر جو شخص پہلے ہی سے ان صفات سے متصف ( ہے ) اور وہ متقی کہلاتا ہے اور ان امور کا پابند ہے تو پھر وہ ہدایت کیا ہوئی ؟ جو اس کتاب کے ذریعہ اُس نے حاصل کی اس میں وہ امر زائد کیا ہے جس کے لئے یہ کتاب نازل ہوئی ہے؟ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی اور امر ہے جو اس ہدایت میں رکھا گیا ہے کیونکہ یہ امور جو بطور صفات متقین بیان فرمائے ہیں یہ تو اس ہدایت کے لئے جو اس کتاب کا اصل مقصد اور غرض ہے بطور شرائط ہیں ورنہ وہ ہدایت اور چیز ہے اور وہ ایک اعلیٰ امر ہے جو خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے اور جس کو میں بیان کرتا ہوں۔پس یاد رکھو کہ متقی کی صفات میں سے پہلی صفت یہ بیان کی يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ یعنی غیب پر 167