نُورِ ہدایت — Page 165
لاوے کہ اپنے اموال محبوبہ مرغوبہ میں سے کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں دیوے تو یہ کچھ کمال نہیں ہے کمال تو یہ ہے کہ ماسویٰ سے بکلی دست بردار ہو جائے اور جو کچھ اُس کا ہے وہ اُس کا نہیں بلکہ خدا کا ہو جائے یہاں تک کہ جان بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں فدا کرنے کے لئے طیار ہو کیونکہ وہ بھی مما رزقتهُمْ میں داخل ہے۔خدا تعالیٰ کا منشاء اُس کے قول مما رزقنا سے صرف درہم و دینار نہیں ہے بلکہ یہ بڑا وسیع لفظ ہے جس میں ہر ایک وہ نعمت داخل ہے جو انسان کو دی گئی ہے۔غرض اس جگہ بھی هُدًى لِلْمُتَّقِينَ فرمانے سے خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ جو کچھ انسان کو ہر ایک قسم کی نعمت مثلاً اُس کی جان اور صحت اور علم اور طاقت اور مال وغیرہ میں سے دیا گیا ہے اس کی نسبت انسان اپنی کوشش سے صرف مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ تک اپنا اخلاص ظاہر کر سکتا ہے اور اس سے بڑھ کر بشری قوتیں طاقت نہیں رکھتیں لیکن خدا تعالیٰ کا قرآن شریف پر ایمان لانے والے کے لئے اگر وہ مما رَزَقُنُهُمْ يُنْفِقُونَ کی حد تک اپنا صدق ظاہر کرے گا بموجب آیت هُدًى لِلْمُتّقین کے یہ وعدہ ہے کہ خدا تعالیٰ اس قسم کی عبادات میں بھی کمال تک اُس کو پہنچا دے گا اور کمال یہ ہے کہ اُس کو یہ قوت ایثار بخشی جائے گی کہ وہ شرح صدر سے یہ سمجھ لے گا کہ جو کچھ اس کا ہے خدا کا ہے اور کبھی کسی کو محسوس نہیں کرائے گا کہ یہ چیزیں اس کی تھیں جس کے ذریعہ سے اس نے نوع انسان کی خدمت کی۔مثلاً احسان کے ذریعہ سے کبھی انسان کسی کو محسوس کراتا ہے کہ اُس نے اپنا مال دوسرے کو دیا مگر یہ ناقص حالت ہے کیونکہ وہ تبھی محسوس کرے گا کہ جب اس چیز کو اپنی چیز سمجھے گا۔پس جب بموجب آیت هُدًى لِلْمُتَّقین کے خدا تعالیٰ قرآن شریف پر ایمان لانے والے کو اس مقام سے ترقی بخشے گا تو وہ یہاں تک اپنی تمام چیزوں کو خدا کی چیزیں سمجھ لے گا کہ محسوس کرانے کی مرض بھی اُس کے دل میں سے جاتی رہے گی اور نوع انسان کے لئے ایک مادری ہمدردی اُس کے دل میں پیدا ہو جائے گی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اور کوئی چیز اس کی اپنی نہیں رہے گی بلکہ سب خدا کی ہو جائے گی اور یہ تب ہوگا کہ جب وہ سچے دل سے قرآن شریف اور نبی کریم پر ایمان 165